کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ حالتِ تشہد میں احناف کے نزدیک شہادت کی اُنگلی اٹھانے کے بعد ویسے ہی حلقہ بنا کر رکھا جائے یا انگلیاں بچھا دی جائیں؟ قرآن و سنت اور فقہ حنفی سے مسئلہ واضح فرمائیں ۔
۲۔جماعت کی نماز کے لۓ قیام کا صحیح وقت کیا ہے ؟ امام کا مصلیٰ کی طرف جانا یہ مقتدیوں کے لۓ قیام کا صحیح وقت ہے یا پھر ’’حی علی الصلاۃ‘‘ کی پکار سن کر کھڑے ہونا ؟ قرآن و سنت سے مسئلہ واضح فرمائیں۔
۱۔ تشہد کے وقت شہادت کی انگلی اٹھانے کے بعد سلام پھیر نے تک اُنگلیوں کا حلقہ ویسے ہی باقی رکھا جائے اور اُنگلیاں بچھائی نہ جائیں۔
۲۔ مذکور دونوں صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں ، البتہ رسول اللہ ﷺ کا عمل، خلفائے راشدین اور جمہور صحابہ و تابعین کا اس پر تعامل رہا ہے کہ امام جب مسجد میں آجائے تو اول اقامت ہی سے سب لوگ کھڑے ہو کر صفوں کی درستگی کر لیں اور اگر امام پہلے سے محراب کے قریب بیٹھا ہو اور لوگ صف بنا کر بیٹھے ہوں تو اس صورت میں ادب یہ ہے کہ ’’حی علی الفلاح‘‘پر کھڑے ہوں ۔
في رسائل ابن عابدین: والصحیح المختار عند جمہور اصحابنا: انه يضع كفيه على فخذیه ثم عند وصوله إلى كلمة التوحید بعقد الخنصر ویحلق الوسطىٰ والابهام ويشير بالمسبحة رافعا لها عند النفى وواضعا لها عند الاثبات ثم يستمر على ذلك اھ (۱/۱۳۴)۔
وفی سنن الترمذي: وروي عن عمر: أنه كان يوكل رجالا بإقامة الصفوف، ولا يكبر حتى يخبر أن الصفوف قد استوت اھ (1/ 302)۔
وفی سنن أبي داود: ابن عمر - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم - لم يقل عيسى بأيدي إخوانكم - ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله» اھ (1/ 179)۔
وفی مراقی الفلاح: (و) من الأدب (القيام) أي قيام القوم والإمام إن كان حاضرا بقرب المحراب (حين قيل) أي وقت قول المقيم (حي على الفلاح ) لأنه أمر به فيجاب وإن لم يكن حاضرا يقوم كل صف حین ینتهی (۱/ ۱۳۵)۔