ہوائی جہاز میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ ہوائی جہاز میں نماز ادا کرنا تو فی نفسہ جائز ہے لیکن وہاں بھی قیام اور استقبالِ قبلہ (قبلہ رو ہونا) شرط ہے ، چنانچہ اگر ان دونوں میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو فرض اور واجب نماز درست ادا نہ ہوگی، لہذا بعد میں اس نماز کا اعادہ لازم ہوگا، جبکہ نفل نماز میں چونکہ قیام فرض نہیں اور شہر سے باہر دورانِ سفر قبلہ رو ہونا بھی شرط نہیں، اس لئے ہوائی جہاز میں سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نفل نماز ادا جا سکتی ہے۔
کما فی الفتاوىٰ الهندية : و من أراد أن يصلي في سفينة تطوعا أو فريضة فعليه أن يستقبل القبلة و لا يجوز له أن يصلي حيثما كان وجهه۔اھ (1/ 63)-
و فی الهداية : و من كان خارج المصر تنفل على دابته إلى أي جهة توجهت يومئ إيماء " لحديث ابن عمر رضي الله عنهما قال رأيت رسول الله عليه الصلاة و السلام يصلي على حمار و هو متوجه إلى خيبر يومئ إيماء۔اھ (1/ 70)