میری والدہ ستاسی سال کی ہے اور نماز کی رکعت، تلاوت اور نماز کی ترتیب بھول جاتی ہے،کیا کوئی برابر میں بیٹھ کر نماز پڑھاسکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ کو اگر اکثر و بیشتر نماز میں بھولنے کا مسئلہ رہتا ہو تو وہ تعداد رکعات میں غالب گمان پرعمل کرے، اور اگر کسی طرف غالب گمان نہ ہو تو کم رکعات (یعنی اگر تین اور چار رکعات میں شک ہو تو تین ہی) شمار کرکے بقیہ نماز مکمل کرکے آخر میں سجدہ سہو کرے، تاہم اگر وہ عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہو کہ اس کےلیے تعداد رکعات اور نماز کی ترتیب کو یاد رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بامر ِمجبوری اگر قریب میں بیٹھے ہوئے شخص کے ذریعہ تعداد رکعات اور نماز کی ترتیب کو درست رکھنے کےلیے ان سے رہنمائی لیکر نماز مکمل کرے تو فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق اس کی نماز شرعا درست ادا ہوگی۔
ففي رد المحتار: (وإذا شك) في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه وعليه أكثر المشايخ بحر عن الخلاصة (كم صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لأنه المحل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنهـ (كتاب الصلاة، ج:2 ، ص: 92،ط : سعید)۔
وفي الهندية: مصل أقعد عند نفسه إنسانا فيخبره إذا سها عن ركوع أو سجود يجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا، كذا في القنية . اھـ (1/138)
و في البحر الرائق: ولو كان يشتبه على المريض أعداد الركعات أو السجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزئه اھـ (2/125)
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: وكذلك لو اشتبه على المريض أعداد الركعات والسجدات بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك، فصرح الحنفية على أنه لا يلزمه الأداء، ولو أداها بتلقين غيره فينبغي أن يجزئه - اھـ (36/356)