احکام نماز

نمازی اور سامنے کھڑے شخص میں کتنا فاصلہ ہو ناچاہیئے؟

فتوی نمبر :
6757
| تاریخ :
2009-08-11
عبادات / نماز / احکام نماز

نمازی اور سامنے کھڑے شخص میں کتنا فاصلہ ہو ناچاہیئے؟

نماز کے دوران طلباء سامنے کھڑے ہوں تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟ نمازی اور سامنے کھڑے شخص میں کتنا فاصلہ ہو کہ نماز درست ہو جائے؟ پوری تفصیل سے آگاہ فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز تو بہرصورت درست ہو جائےگی، ہاں اگر کوئی شخص پہلے سے بیٹھا ہوا پڑھ رہا ہو ،یا کسی کے ساتھ باتیں وغیرہ کر رہا ہو ،اور اس کی وجہ سے نماز میں خلل آنے کا اندیشہ ہو ، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے، جس سے احتراز چاہیئے۔
اور اگربعد میں کوئی دوسرا قریب آ بیٹھے یا سامنے سے گزرنے لگے یا نمازی کے قریب کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جائے، تو اس صورت میں یہ دوسرا گناہ گار ہوگا ، الا یہ کہ ان کی وجہ سے نماز کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو ،تو پھر نماز ی کو چاہیئے کہ انہیں منع کر دے یا کسی دوسری جگہ نماز پوری کرنے کا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (و) یکرہ (صلاة إلی ظہر قاعد) أو قائم ولو (یتحدث) إلا إذا خیف الغلط بحدیثه اھ
وفی الرد المحتار: قید بالظهر احتراز عن الوجه فإنها تکره إلیه کما مر اھ (۱/ ۶۵۱) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نیاز احمد گلاب شاہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6757کی تصدیق کریں
0     661
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات