السلام علیکم!
۱۔آج کل اٹیچڈ باتھ روم بہت بنائے جا رہے ہیں، یعنی ایسے باتھ روم جہاں W.C شاور ، بیسن ، نل وغیرہ ایک ہی جگہ پر نصب کیے جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایسی جگہ وضو کرنے میں کوئی ممانعت تو نہیں؟ ہر چند کہ واش بیسن یا نل ، W.C، کے برابر میں ہوں ؟
۲۔صرف نماز کے وقت یا نماز کے لۓ پائنچے اونچے کرنا (فولڈ کرنا یا نیفا اونچا کرنا) صحیح ہے؟ کیا ایسا کرنا مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی کے زمرے میں آتا ہے؟
۳۔اگر ایک شخص کا وضو ، دورانِ وضو ساقط ہوگیا ، تو کیا اس پر شرعی معذوری لاحق ہو گئی؟ بالفرض ایسا شخص گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے ، مسجد پہنچنے سے پہلے یا پہنچنے کے بعد اگر وضو ساقط ہوتا ہے تو کیا ایسا شخص اس وقت کی نماز کے لۓ شرعی معذور کے زمرے میں آئےگا ؟
۱۔ایسی جگہ کھڑے ہو کر وضو کرنے سے کسی قسم کی ناپاکی کا اندیشہ نہ ہو ، اور وضو کا پانی براہِ راست باتھ روم یا گندگی میں نہ ٹھہرتا ہو ، تو وہاں وضو کرنا جائز ہے، ورنہ اس کے علاوہ کسی دوسری پاک و صاف جگہ وضو کا اہتمام چاہیۓ ۔
۲۔نماز تو بہر صورت ادا ہوجائے گی، البتہ ٹخنے ننگے ہونے کی صورت میں بلا کراہت اور دوسری صورت میں کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، اس لۓ مردوں کو عام حالات میں بھی اور دورانِ نماز خصوصاً ، اپنے ٹخنے ننگے رکھنے کا اہتمام چاہیۓ۔ جبکہ تیسرے سوال سے سائل کی مراد ہے ؟ یہ واضح نہیں ، اس لۓ اسے چاہیۓ کہ دوسرے الفاظ میں ، اپنا مدعا وضاحت کے ساتھ بیان کرکے دوبارہ سوال ارسال کرے ، انشاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جاۓ گا ۔
فی مشكاة المصابيح : عن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : [ص:851] « ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة و لا ينظر إليهم و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم » . قال أبو ذر : خابوا و خسروا من هم يا رسول الله ؟ قال : « المسبل و المنان و المنفق سلعته بالحلف الكاذب » . رواه مسلم اھ (2/ 850)۔