احکام نماز

قضا شدہ نمازوں کے فدیے کا مسئلہ

فتوی نمبر :
69040
| تاریخ :
2023-11-06
عبادات / نماز / احکام نماز

قضا شدہ نمازوں کے فدیے کا مسئلہ

حضرت ! میرے ذمہ 1971 سے 1980 تک کی نمازیں باقی ہیں اور میں ان کا فدیہ دینا چاہتا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ اُس زمانے کے صدقۂ فطر کے حساب سے رقم ادا کی جائے یا آج کے حساب سے؟
جزاک اللّٰہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے جب تک ہوش و حواس سالم ہوں اور وہ سر کے اشارے سے بھی نمازوں کی ادائیگی پر قدرت رکھتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ گزشتہ عرصے کی قضاء نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا ،سائل کے لئے اپنی زندگی میں ان نمازوں کا فدیہ دینا درست نہیں ،لہذا سائل کو چاہیئے کہ گزشتہ دس سال کے عرصے میں سائل سے جتنی نمازیں قضاء ہوئی ہیں ان کا غالب گمان کے مطابق اندازہ لگا کر ان نمازوں کی قضاء پڑھتا رہا کرے ،اور اس کےساتھ یہ وصیت بھی کردے کہ اگر میں اپنی زندگی میں ان تمام نمازوں کی قضاء نہ کرسکا تو میرے ترکے سے ان نمازوں کا فدیہ دیا جائے ،چنانچہ اگر گزشتہ تمام قضاء نمازوں کے اعادے سے قبل موت آجائے تو ایسی صورت میں ورثاء کے ذمہ ایک تہائی ترکے کی حد تک اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان نمازوں کا موجودہ حساب سے فدیہ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامیۃ :(قوله و لو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة : سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز ؟ فقال لا. و سئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم و هو حي ؟ فقال لا. اهـ . و في القنية : و لا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم . اهـ .
أقول : و وجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر و يفدي في حياته ، حتى إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر و إلا فلا شيء عليه ، فإن أدرك و لم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر ، هذا ما قالواه ، و مقتضاه أن غير الشيخ الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص و مثله الصلاة ؛ و لعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر ، و لا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها ، بخلاف الشيخ الفاني فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم و قضائه فيفدي في حياته ، و لا يتحقق عجزه عن الصلاة لأنه يصلي بما قدر و لو موميا برأسه ، فإن عجز عن ذلك سقطت عنه إذا كثرت ، و لا يلزمه قضاؤها إذا قدر كما سيأتي في باب صلاة المريض ، و بما قررنا ظهر أن قول الشارح بخلاف الصوم أي فإن له أن يفدي عنه في حياته خاص بالشيخ الفاني تأمل(2/74)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69040کی تصدیق کریں
0     769
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات