1 ۔ میں صبح 4 بجے اٹھتا ہوں یا کبھی فجر کی اذان پر اٹھتا ہوں ، پھر میں تہجد اور نوافل پڑھتا ہوں ، فجر کی اذان کے بعد تہجد اور نوافل پڑھ سکتے ہیں ؟ 2 ۔ میں باتھ روم میں غسل کرتا ہوں تو میری زبان سے اللہ کا نام آتا ہے یعنی ذکر ، آیت ، سورۃ فاتحہ وغیرہ ( گھر میں صرف باتھ روم ہوتا تھا ، اب ساتھ لیٹرین بھی ہوتا ہے ) ۔ آج کل میں بہت پریشان ہوں ، مالی صحت ، حالات وغیرہ گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے ، میری عمر 70 سال ہے ، اب میں کیا کروں ، کچھ سمجھ نہیں آتا کوئی راستہ یا حل بتائیں ، تاکہ میرے حالات صحیح ہوجائیں ، نماز میں دل سے نہیں پڑھ سکتا ، صرف فجر اور ظہر ہی پڑھتا ہوں ، ریڑھ کی ہڈی میں بہت درد ہوتا ہے ، پچھلے پانچ سالوں سے میں بہت پریشان ہوں اور اب سمجھ میں کچھ نہیں آتا اس کا حل کیا ہوگا ، کیسے حالات صحیح ہوجائیں ، باقی زندگی زہر لگ رہی ہے ، اللہ آسانی کرے ، آمین ثم آمین یا رب العالمین ، دعا کریں ، ان مسئلوں کا حل بتائیں ، میں آپ کا بے حد ممنون و مشکور رہوں گا ۔
واضح ہو کہ صبح صادق کے بعد فجر کی دو رکعت سنتوں کے علاوہ نفل یا تہجد پڑھنا مکروہ ہے ، اسی طرح بیت الخلاء اور غسل خانہ کے ایک ساتھ ہونے کی صورت میں وہاں غسل کرتے وقت زبان سے ذکر کرنا یا ادعیۂ ماثورہ پڑھنا جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ مالی اور بدنی اعتبار سے پریشانی میں مبتلا ہونے کی صورت میں اس سے نکلنے کا طریقہ تو رجوع الی اللہ اور پنج وقتہ فرض نمازوں کا اہتمام ہے ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ وقتی پریشانی کو اپنے اوپر اس قدر سوار نہ کرے کہ اس کی وجہ سے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ہونے لگے ، بلکہ اسے فرائض کے ساتھ نوافل وغیرہ کی بھی پابندی کرتے ہوئے اللہ رب العزت سے اپنی مشکلات کے حل کے لئے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیئے ، اور اس کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار اور درجِ ذیل دعا پڑھنے کو بھی اپنا معمول بنائیں ، ان شاء اللہ وقت کے ساتھ ساتھ سب بہتر ہو جائے گا :
" اللھم انی اعوذبک من الھم و الحزن و العجز و الکسل و البخل و الجبن و الدین و غلبۃ الرجال "
کما فی سنن النسائی : عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ : قال : کان لرسول اللہ ﷺ دعوات لا یدعھن ( اللھم انی اعوذبک من الھم و الحزن و العجز و الکسل و البخل و الجبن و الدین و غلبۃ الرجال ) اھ ( کتاب الاستعاذہ ج 2 صـــ 1292 ط : بشریٰ ) ۔
و فی الھندیۃ : تسعۃ اوقات یکرہ فیھا النوافل و ما فی معناھا لا الفرائض ( الی قولہ ) منھا ما بعد طلوع الفجر قبل صلاۃ الفجر ( الی قولہ ) یکرہ فیہ التطوع باکثر من سنۃ الفجر الخ ( الفصل الثالث ج 1 صــــ 52 ط : ماجدیۃ ) ۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ : الا حال انکشاف الخ ) الظاھر ان المراد انہ یسمی قبل رفع ثیابہ ان کان فی غیر المکان المعد لقضاء الحاجۃ ، و الا فقبل دخولہ ، فلو نسی فیھا سمی بقلبہ ، و لا یحرک لسانہ تعظیما لاسم اللہ تعالی الخ ( ارکان الوضوء ج 1 صـــ 109 ط : سعید ) ۔
و فی الدر المختار ( و ) فیھا یکرہ الکلام فی المسجد و خلف الجنازۃ و فی الخلاء الخ ( فصل ج 6 صـــ 418 ط : سعید ) ۔