کیا ایک عورت اپنے شوہر سے طلا ق کے بعد اخراجات کا مطا لبہ کرسکتی ہے ؟ قرآن و حدیث کے مطابق بتائیں وہ عورت دعوٰی کرسکتی ہے ؟
میاں و بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجا نے کی صورت میں اگر عورت ناشزہ (مباح امور میں شوہر کی نافرمانی نہ کرتی ہو ، یا بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑ کر نہ چلی گئی ہو ) نہ ہو ، تو ایسی صورت میں شوہر پر فقط ایام عدت کا نان و نفقہ لازم ہوگا ، جبکہ ایام عدت گزر جانے کے بعد چونکہ مرد و عورت ایک دوسرے کے حق میں اجنبی بن جاتے ہیں ، اس لئے ایام عدت گزرنے کے بعد عورت کا ذاتی اخراجات کے لئے مرد سے رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
و قال اللہ تعالیٰ : أسکنو ھنّ من حیث سکنتم من وجدکم و لاتضاروھنّ لتضیقوا علیھنّ و أِن کنّ أُولات حملٍ فأنفقوا علیھنّ حتی یضعن حملھنّ (سورۃ الطلاق ایۃ 6 ) ۔
و فی اعلاء السنن : عن أبی ھریرۃ عن جابر عن النبی ﷺ قال ، المطلقۃ ثلاثہ لھا السکنیٰ و النفقۃ ، رواہ الدارقطنی ، ( ج11 ص295 باب أن المطلقۃ المبتوتہ لھا السکنی والنفقۃ ط أِدارۃ القرآن )۔
و فی الھدایہ : و أِذاطلق الرجل أِمرأتہ فلھا النفقۃ و السکنیٰ فی عدتھا رجعیاً کان أو بائناً (الی قولہ ) سمعت رسول ﷺ یقول للمطلقہ الثلٰث النفقۃ و السکنیٰ مادامت فی العدۃ الخ ( ج1 ص 446 باب النفقۃ ط رحمانیہ ) ۔
و فی ردالمحتار : تحت (قولہ لرضاھا بذلک ) لأنّ الفرض کان حقھا لکونہ أنفع لھا ، فأنّ النفقۃ تصیر بہ دیناً فی ذمتہ فلاتسقط بالمضی الخ ( ج 3 ص 587 باب النفقۃ ط سعید ) ۔
و فیہ ایضاً : تحت قولہ ( و لذا ) أی لما علم مما سبق أنّ النفقۃ تصیر دیناً بالقضاء و لا تسقط بمضی المدۃ (ج3 ص 586 باب النفقۃ ط سعید ) ۔ واللہ اعلم