السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے کہ میں جب وضو کرتا ہوں نماز کے لئے ،اس وقت میرے لئے ایک مسئلہ بن جاتا ہے، مجھے پیٹ کے اندر ایسافیل ہوتا ہے جیسے ہوا خارج ہونے لگی ہے، پھر میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں تو درمیان میں ایسے عجیب و غریب سی ا ندر سے ایسافیل ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہونے لگی ہے، مگر یہ مسئلہ مجھے اس وقت ہوتا ہے جب میں نماز کے لئے وضو کرتا ہوں نماز پڑھتا ہوں اس وقت ،اس سے پہلے دن میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جب بھی میں وضو کر لیتا پھر اس کے بعد دن کے اندر جتنی بار بھی وضو کرتا ہوں تو یہ مسئلہ نہیں پیش آتا، اگر نماز کے دوران ،یا نماز کے لئے وضو کرتا ہو ں تب میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آ تا ہے، دورانِ نماز میں اس وجہ سے بہت تکلیف محسوس کرتا ہوں اور مجھے بہت عجیب سافیل ہوتا ہے، برائے مہربانی اس مسئلے کے بارے میں میری رہنمائی کی جائے، کیونکہ جب میں نماز ادا کرتا ہوں تو میں بڑی مشکل سے نماز ادا کرتا ہوں بہت ہی مجھے کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔
واضح ہو کہ فقہاء کرا م رحمھم اللہ کی تصریحات کے مطابق باوضو شخص کو جب تک ہوا خارج ہونے کا یقین اور غالب گمان نہ ہوجائے، تب تک وضوء نہیں ٹوٹتا ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کونماز کیلئے وضو کرنے کے بعد ،یا دورانِ نماز ہواء خارج ہونے کا ا گر یقین اور غالب گمان نہ ہو تو محض وہم و گمان سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ سائل حسبِ سابق باوضو ہی رہے گا،لہذا سائل کو ان وساوس کی طرف دھیان دینے کے بجائے یکسوئی کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا
چاہیئے ۔
فی اعلاءالسنن:وقاعدۃ عظیمۃ من قواعدالدین وھی ان الاشیاء یحکم ببقائھا علی اصولھا حتیٰ یتیقن خلاف ذلک ولایضر الشک الطارئ علیھافمن ذلک مسئلۃ الباب التی ورد فیھا الحدیث وھی ان من تیقن الطھارۃ وشک فی الحدث حکم ببقائھا علی الطھارۃ ولا فرق بین حصول ھذا الشک فی نفس الصلوۃ وحصولہ خارج الصلوۃ ھذا مذھبنا ومذھب جماھیر العلماء من السلف والخلف اھ (1/127)۔
وفی الدر المختار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين اھ (1/150)۔