احکام نماز

ایسی بڑی عورت کے لئےجس کی عقل ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ دے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
70287
| تاریخ :
2024-01-12
عبادات / نماز / احکام نماز

ایسی بڑی عورت کے لئےجس کی عقل ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ دے نماز کا حکم

ایک عورت اتنی بوڑھی ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتی ، باقی باتیں کر لیتی ہیں ،لیکن عقل صحیح کام نہیں کرتی ، تو کیا اس کی نمازوں کا فدیہ دیا جائے گا یا نہیں؟ اگر دیا جائے تو کتنا ؟ اور ان کی صفائی بھی باقی کرتے ہیں ، تو کیا چالیس (40) دن میں صفائی لازمی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور عورت اگر عمر کے اس حصے کو پہنچ چکی ہو کہ ان کے شعور میں خلل آنے کی وجہ سے ان کے لئے تعداد ِ رکعات و ارکانِ نماز کو ضبط کرنا ممکن نہ ہو،اور نہ ہی کسی کے بتلانے اور تلقین کرنے سے وہ نماز کی درست ادائیگی کا اہتمام کرسکتی ہو، تو ایسی صورت میں اس عورت سے نماز کا فریضہ ساقط ہوگا، اور اس پر نماز کی ادائیگی یا اس حالت میں نہ پڑھی گئی نمازوں کا فدیہ اداکرنا لازم نہ ہوگا، جبکہ مذکور عورت کا زائد بالوں کی صفائی ستھرائی کے لئے دوسروں کی محتاج ہونے کی صورت میں اگر ان کے شوہر حیات ہوں تو وہ و گرنہ ان کی بیٹی یا بہن کے ذریعہ بوقت ضرورت زائد بالوں کی صفائی کرانے کی گنجائش ہے، اور صفائی ستھرائی ہفتہ میں ایک بار کرنا سنت اور چالیس دنوں سے پہلے پہلے کرنا جائز ہے، مگر چالس دن تک تاخیر کرنا درست نہ ہوگا، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: (ولو اشتبه على مريض أعداد الرکعات لنحاس یلحقه لا يلزمه الأداء) ولو اداها بتلقين غیره ینبغی أن يجزيه كذا في القنية اھ (ج 2، ص 100، ط:سعید)۔
وفي رد المحتار: تحت (قوله ولو اشتبه على مريض الخ) أى بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك ، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لان ذلك يحصل للصحيح اهـ ( ج ۲، ص ۱۰۰، ط: سعید)۔
وفي البحر الرائق : وفي القنيه ولا فدية فى الصلاة حالة الحياة اهـ ( ج ٢ ص ١١٦ ، ط: ماجد يه)۔
وفي الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل اسبوع مرة ) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين الخ (ج ٦، ص ٤٠٧ ، ط: سعيد) –
وفي رد المحتار : تحت ( قوله وكره تركه) أى تحريماً ، لقول المجتى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد، وفي ابى السعود عن شرح المشارق لابن مالك روى مسلم عن انس بن مالك رض الله عنه وقت لنا في تقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط ان لا نترك اكثر من اربعين ليلة الخ ( ج ٦ ، ص ، ٤٠٧ ط: سعيد) –
وفي الهندية : في جامع الجوامع حلق عانته بيده وحلق الحجام جائز إن غض بصرہ كذا في التاتارخانية اهـ ( ج ۵ ص، ط: ۳۵۸ ماجديه) -
وفي البحر الرائق: والطبيب انما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فإن وجدت فلا يجوز له أن ينظر لان نظر الجنس الى الجنس اخف، وينبغى للطبيب ان يعلم امراة ان امكن وان لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوضع، ثم ينظر ويغض بصره عن غير ذلك الموضع ان استطاع لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها اهـ (ج) ص ۱۹۲، ط: ماجديه)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70287کی تصدیق کریں
0     501
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات