میں ڈپریشن کا مریض ہوں، نماز میں کچھ یاد نہیں رہتا، میرے لئے نماز کا کیا حکم ہے ؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اسے نماز پڑھتے وقت تعداد رکعات اور ارکان کی ادائیگی اور ترتیب کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا یا اسے یاد رکھنے کے لئے ذہن پر مزید دباؤ ڈالنے اور اپنے آپ کو متوجہ کرنے کی ضرورت پڑ تی ہے، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل کے ساتھ یہ مستقل مسئلہ نہ ہو بلکہ وقتی پریشانی اور اس سے متعلق سوچ یا بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نماز سے غافل ہوجاتاہو، تو ذہن کا دوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہونے کی صورت میں نماز کا استحضار باقی نہ رہنا ایک فطری امر ہے، لہذا سائل کو چاہئیےکہ نماز شروع کرتے وقت اپنے آپ کو دیگر مشاغل اور سوچ بچار سے دور رکھنے کی پوری کوشش کرے اور اس کے ساتھ دروانِ نماز الفاظ کی ادائیگی اس قدر آواز سے کرے کہ ہلکی سی آواز اس کے کانوں تک پہنچےتو اس کی وجہ سے توجہ بھی بر قرار رہیگی اور ارکان نماز کی ادائیگی اور افعال کا استحضار بھی رہیگا۔
کمافي الدر المختار: (ولو اشتبه على مريض أعداد الرکعات لنحاس یلحقه لا يلزمه الأداء) ولو اداها بتلقين غیره ینبغی أن يجزيه كذا في القنية (ج 2، ص 100، ط:سعید)۔
وفي رد المختار : تحت (قوله ينبغى أن يجزيه) (إلى قوله) قلت : وقد يقال أنه ليس بتعليم و تعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبالغ بإنتقالات الإمام (ج ٢ ص 100، ط: سعيد)۔
وفي البحر الرائق : وفي القنية مريض لا يمكنه الصلاة الا باصوات مثل أوه ونحوه يجب عليه أن يصلى الخ (ج 2، ص 115، ، ط: ماجدیۃ)۔