ہمارے سکول کے بعض علماء کرام کا بیان ہے کہ فرض نماز میں صرف امام کے آگے گزرنے کی ممانعت ہے، جبکہ فرض نماز میں مقتدی کی صفوں میں سے آگے جگہ کے حصول کے لئے پھلانگنے کی ممانعت نہیں، علماء کرام راہنمائی فرمائیں ۔شکریہ!
واضح ہو کہ اگر مسجد میں جماعت سے نماز ادا کی جارہی ہو اور امام کے آگے سترہ ہو تو وہ سترہ مقتدی کا بھی سترہ شمار ہوگا، لہذا نماز کی ادائیگی کے دوران کسی عذر کی بناپر کسی شخص کو مقتدیوں کے سامنے سے گزرنے کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے مقتدیوں کے سامنے سے گزرنا جائز ہوگا اور وہ شخص اس سے گنہگار بھی نہ ہوگا، جبکہ جماعت کھڑی ہونے اور صفیں بننے کے بعد اگر پہلی صف میں کوئی جگہ خالی ہو، اور پچھلی صف سے کوئی شخص خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہتا ہو، تو ایسی صورت میں مطلقاً ( چاہے امام صاحب کے سامنے سترہ ہو یا نہ ہو) کسی کو اضافی ایذاء دیئے بغیر صف چیر کراس صف کو مکمل کرنے لئے آگے بڑھنا جائز ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وكفت سترة الامام) للكل (ولو عدم المرور والطريق جاز تركها) وفعلها أولى اھ (ج1، ص 638، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ للکل) للمقتدین بہ کلھم، وعلیہ فلو مر مار فی قبلۃ الصف فی المسجد الصغیر لم یکرہ اذا کان للامام سترۃ الخ (ج1، ص 638، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له خرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث «من سد فرجة غفر له» وصح «خياركم ألينكم مناكب في الصلاة» وبهذا يعلم جهل من يستمسك عند دخول داخل بجنبه في الصف ويظن أنه رياء كما بسط في البحراھ (باب الامامۃ، ج1، ص570، ط؛ سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت قوله لتقصيرهم) يفيد أن الكلام فيما إذا شرعوا. وفي القنية قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه ليصل الصفوف لأنه أسقط حرمة نفسه فلا يأثم المار بين يديه الخ (باب الامامۃ، ج1، ص570، ط؛ سعید)۔
وفی الہدایۃ: وسترة الإمام سترة للقوم " لأنه عليه الصلاة والسلام صلى ببطحاء مكة إلى عنزة ولم يكن للقوم سترة اھ(باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج1 ص 141، ط:رحمانیۃ)۔