مفتی صاحب ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں قسطوں پر گاڑیوں کا کاروبار کرتا ہوں ،یعنی ایک گاڑی کی کل قیمت 50,0000 لاکھ روپے ہے ، جس میں سے ایڈوانس ایک لاکھ ، باقی رقم (چار لاکھ روپے) 100 فیصد یا ستر فیصد کے حساب سے منافع لگا کر اس کی کل قیمت نو لاکھ روپے ہو جاتی ہے، اب یہ رقم ماہوار قسطوں پر یعنی دس ہزار ، بیس ہزار کے حساب سے لیتے ہیں۔
2: گاڑی کی چابی اور گاڑی چلانے کے کاغذات ان کے حوالے کرتے ہیں، مالکانہ حقوق کے کاغذات اپنے پاس رکھتے ہیں کہ جب قسط ختم ہوگی تو کا غذات پھر دیتے ہیں۔
3: اس دوران گاڑی گم ہو جائے یا ٹوٹ پھوٹ جائے ،تو اس کا دی ہوئی رقم اور میری بقیہ رقم اس پر سے ختم ہو جاتی ہے،کیا شرعی لحاظ سے یہ کاروبار درست ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کام کو شرعی طور پر کرنے کا طریقہ بتلائیں ۔
مذکور کاروبار میں اگر مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ شق نمبر ۳ کو عقد میں نہ رکھا جائے ، تو یہ کاروبار جائز ہے۔
۱:عقد کے وقت باہمی رضامندی کے ساتھ گاڑی کی کل قیمت طے کر لی جائے۔
(۲): یہ طے کر لیا جائے کہ گاڑی ادھار قسطوں پر فروخت کی جائیگی۔
(۳): ماہانہ قسط متعین کرلی جائے۔
(۴): کل قسطوں کا تعیّن بھی کر لیا جائے۔
(۵): کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی صورت میں کوئی جرمانہ وصول نہ کیا جائے ۔
(۶): گاڑی کے نقصان کی صورت میں سائل کو اپنی خوشی سے بقیہ کل رقم یا اس کا کچھ حصہ معاف کرنے یا نہ کرنے کا پورا اختیار ہو ، مشتری کی طرف سے اس کی کوئی شرط نہ ہو۔
كما في و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0