زید مسجد میں فجر کی دو رکعت سنت پڑھ رہا تھا, اِسی دوران امام صاحب نے فجر کی پہلی رکعت میں سجدہ کی آیت کی تلاوت کر کے سجدہ کیا اِس کے بعد زید نے اپنی سُنت کی نماز مکمل کی اور امام صاحب کی پہلی رکعت ہی میں شامل ہو گیا، تو کیا اُسے امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کرنا چاہیئے تھا؟
صورتِ مسئولہ میں زید نے جب سنت کے دوران امام صاحب سے آیتِ سجدہ سن لی تو اس پر بھی سجدہ تلاوت کرنا لازم ہوچکا تھا، تاہم سنت سے فراغت کے بعد اگر وہ اسی پہلی رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہوگیا تھا تو رکعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کا سجدہ ادا ہوگیا، لہٰذا زید پر نماز کے بعد دوبارہ سجدہ کرنا لازم نہیں ہے۔
في الهداية : و لو سمعها رجل خارج الصلاة سجدها اھ (1/ 78)-
و فی الدرالمختار و حاشیۃ ابن عابدین: (ومن سمعها من إمام) ولو باقتدائه به (فائتم به قبل أن يسجد الإمام لها سجد معه) ولو ائتم (بعده لا) يسجد أصلا كذا أطلق في الكنز تبعا للأصل (وإن لم يقتد به) أصلا (سجدها) وكذا لو اقتدى به في ركعة أخرى على ما اختاره البزدوي وغيره وهو ظاهر الهداية اھ۔
(قوله لا يسجد أصلا) أي لا في الصلاة ولا بعدها فافهم. (۱۱/۲، ط: دار الفکر، بیروت)-