السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میرے شوہر حیثیت ہونے کے باوجود مجھے خرچہ نہیں دیتے ضرورت کی اشیاء تک لاکر نہیں دیتے مجبور ہوکر نوکری کر رہی ہوں ، سوال یہ ہے کہ ایسے شوہر کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ، اور ایسے شوہر جو جان بوجھ کر تنگ کررہے ہیں ان کے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، تو سائلہ کے شوہر کا باوجود قدرت و استطاعت کے سائلہ کے ضروری اخراجات پورے نہ کرنا اور جان بوجھ کر سائلہ کو پریشان کر کے نوکری کرنے پر مجبور کرنا ظلم اور بیوی کی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے، جس کی وجہ سے سائلہ کا شوہر گناہ گار ہورہا ہے، اس پر لازم ہیکہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آکر بیوی کے حقوق پورے کرکے گھر بسانے کی کوشش کرے، بصورت دیگر سائلہ کو اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی یا بذریعہ خلع وطلاق شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔
کما فی الدرالمختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته الخ (ج3 ص572 باب النفقۃ ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد الخ (ج3 ص572 باب النفقۃ ط سعید)۔