السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ:
کیا مصروفیت کی وجہ سے مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں ؟ کیونکہ احتمال ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی نمازِ مغرب چھوٹ سکتی ہے۔
واضح ہو کہ ہر نماز کو اسکے مقررہ وقت پر ادا کرنا لازم اور ضروری ہے ، لہذا مصروفیت کی وجہ مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھنا شرعاً درست نہیں البتہ کبھی بھار کسی شرعی عذر کیوجہ سے مغرب کی نماز وقت پر نہ پڑھ سکے ، تو بعد میں اسکی قضاء کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی روح المعانی: (موقوتا) محدود الأوقات لا یجوز إخراجھا عن أوقاتھا فی شیء من الأحوال فلا بد من إقامتھا الخ (ج 3 صـ 132 ط: دار الکتاب العلمیۃ)
وفی الدر المختار: (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة) الخ (کتاب الصلاۃ ج 1 صـ 381 ط: سعید)