احکام نماز

میت نے وصیت نہ کی ہو تو نمازوں کے فدیہ کا حکم

فتوی نمبر :
73139
| تاریخ :
2024-05-14
عبادات / نماز / احکام نماز

میت نے وصیت نہ کی ہو تو نمازوں کے فدیہ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں ، میری والدہ ڈھائی مہینے تک بستر پر رہی اور اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا لیکن اس دوران وہ نماز پڑھنے سے قاصر رہی ، لیکن ان ڈھائی مہینوں میں اس کی حالت ایسی تھی کہ اٹھنے بیٹھنے میں دوسروں کی محتاج تھی ، اور پھر آخری پندرہ دنوں میں تو ایسی ہوگئی تھی کہ بے ہوشی کی سی حالت تھی ، اور کسی کو پہچاننے اور بات کرنے سے عاجز تھی ، چنانچہ اس وجہ سے وہ نماز وغیرہ کے فدیہ کے حوالے سے کوئی وصیت بھی نہ کرسکی ، لیکن ہماری ذاتی خواہش ہے کہ ان کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دیدیں ، تو لہذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ فدیہ کس طریقے سے ادا کرنا ہے ؟نیز سب نمازوں کا لازم ہے یا بعض کا ، اسی طرح یکمشت ادائیگی لازم ہے ، یا وقتاً فوقتاً حسبِ سہولت ادائیگی کافی ہوگی، اور فدیہ کی رقم کتنی ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی والدہ مرحومہ بیماری کے آخری پندرہ دن اگر بے ہوش رہی تھی انہیں بالکل ہوش نہیں تھا تو ان نماوزں کا فدیہ دینا لازم نہیں، چنانچہ اب ورثاء کو ان ایام میں فوت شدہ نمازوں کے فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ، جبکہ بیماری کے بقیہ ایام میں اگر مرحومہ کا ہوش وحواس صحیح سالم تھا ، اور وہ اشارے سے بھی نماز پڑھنے پر قادر تھی تو ایسی صورت میں مرحومہ کے ذمہ ان نمازوں کو ادا کرنا یا بعد میں ان کے فدیہ دینے کی وصیت کرنا لازم تھا، لیکن اگر مرحومہ نے کوئی وصیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں ورثاء کے ذمہ ان فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا لازم نہ ہوگا، البتہ اگر مرحومہ کے تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں اور ترکہ میں سے مرحومہ کی نمازوں کا فدیہ دینا چاہتے ہوں یا کوئی وارث اپنے ذاتی مال میں سے فدیہ دینا چاہتا ہو، تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور وتر سمیت دن میں چھ نمازوں کا فدیہ دینا لازم ہوگا، لیکن فدیہ کی رقم یکمشت ادا کرنا لازم اور ضروری نہیں بلکہ حسبِ سہولت تھوڑی،تھوڑی کرکے بھی ادا کی جاسکتی ہے، تاہم بہتر یہ ھیکہ جلد از جلد فدیہ کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)الخ ( ج2 ص72 باب قضاء الفوائت ط سعید)۔
وفی رد المحتار: (قوله وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة.الخ ( ج2 ص 73 باب قضاء الفوئت)۔
وفیہ ایضاً: (قوله وكذا حكم الوتر) لأنه فرض عملي عنده خلافا لهما ط. ولا رواية في سجدة التلاوة أنه يجب أو لا يجب كما في الحجة. والصحيح أنه لا يجب كما في الصيرفية إسماعيل.الخ ( ج2 ص 73 باب قضاء الفوائت ط سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73139کی تصدیق کریں
0     998
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات