جو شخص سنتیں نہ پڑھے، کیا وہ گنہگار ہوگا؟
واضح ہو کہ سننِ مؤکدہ کو بلاعذر ترک کرنا اور اس کی عادت بنا لینا شرعاً ناجائز اور گناہ ہونے کے ساتھ بڑی بدنصیبی اور آپ علیہ السلام کی شفاعت سے محرومی کا باعث ہے، لہٰذا سننِ مؤکدہ کے پڑھنے کا اہتمام لازم ہے۔
جبکہ سننِ غیر مؤکدہ (عصر اور عشاء سے پہلے کی چار سنتیں) بھی ترک نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے پڑھنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے، البتہ اس کو چھوڑنے سے آدمی گناہ گار نہیں ہوتا۔
وفی البحرالرائق: وهكذا صححه في العناية والنهاية لأن فيها وعيدا معروفا قال - عليه الصلاة والسلام - «من ترك أربعا قبل الظهر لم تنله شفاعتي» وفي التجنيس والنوازل والمحيط رجل ترك سنن الصلوات الخمس إن لم ير السنن حقا فقد كفر لأنه ترك استخفافا وإن رأى حقا منهم من قال لا يأثم والصحيح أنه يأثم لأنه جاء الوعيد بالترك اهـ. وتعقبه في فتح القدير بأن الإثم منوط بترك الواجب وقد «قال - صلى الله عليه وسلم - للذي قال والذي بعثك بالحق لا أزيد على ذلك شيئا أفلح إن صدق» اهـ. ويجاب عنه بأن السنة المؤكدة بمنزلة الواجب في الإثم بالترك كما صرحوا به كثيرا وصرح به في المحيط هنا وأنه لا يجوز ترك السنن المؤكدة ولو صلى وحده وهو أحوط اھ۔ (2/52)۔