احکام نماز

ایک مسجد میں دو بار جمعہ یا عید کی نماز کروانا

فتوی نمبر :
73544
| تاریخ :
2024-05-30
عبادات / نماز / احکام نماز

ایک مسجد میں دو بار جمعہ یا عید کی نماز کروانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ !بعد سلام عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے کی ایک مسجد ہے جو جگہ کے اعتبار سے کافی بڑی ہے مگر عوام کی تعداد کے اعتبار سے چھوٹی ہے اس و جہ سے ایک بار میں تمام حضرات جمعہ اور عید کی نماز نہیں پڑھ سکتے ، اور حکومت کی پابندی کی بنا پر مسجد کے باہر نماز ادا نہیں کر سکتے، اور آس پاس کی مسجدیں دوسرے عقائد رکھنے والوں کی ہیں اس بنا پر ہماری مسجد میں عید اور جمعہ کی دو سے تین جماعتیں ہوتی ہیں ، اس طرح نماز پڑھنے کو بعض مفتیانِ کرام جائز قرار دیتے ہیں اور بعض نا جائز ، ان تمام صورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آ پ بتائیں کہ تمام لوگوں کی نماز پڑھنے کی کیا صورت رہے گی ؟ کیا ایک مسجد میں چند مرتبہ جماعت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ ان چیزوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جس مسجد میں امام و مؤذن اور مقتدی متعین ہوں اور اہلِ محلہ ایک مرتبہ اذان و اقامت کے ساتھ اس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں تو اس مسجد میں اس نماز کی دوسری جماعت کرانے کو فقہاء ِ کرام نے مکروہ لکھا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جگہ کی تنگی کے باعث دوسری اور تیسری جماعت کرانا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ حتی الوسع مسجد کی توسیع کی کوشش کریں، تاکہ سارے نمازی اس میں سما سکیں ، تاہم جب تک مسجد کی توسیع نہ ہوسکے اس وقت تک جمعہ وعیدین کسی لھلے میدان مین ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے، جبکہ بمجبوری دیگر مساجد میں جمعہ وغیرہ ادا کرنے کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المبسوط: قال( و إذا دخل القوم مسجداً قد صلّیٰ فیہ أھلہ کرھت لھم أن یصلّوا فیہ جماعۃ بأذان و إقامۃ و لٰکنّھم یصلّون وحداناً بغیر أذان و لا إقامۃ) لحدیث الحسن قال کانت الصحابۃ إذا فاتتھم الجماعۃ فمنھم من اتّبع الجماعات و من من صلّیٰ فی مسجدہ بغیر أذان و لا إقامۃ و فی الحدیث أنّ النّبی صلّیٰ اللہ علیہ و سلّم خرج لیصلح بین الأنصار فاستخلف عبد الحمٰن بن عوف فرجع بعد ما صلّیٰ فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیتہ و جمع أھلہ فصلی بھم بأذان و إقامۃ فلو کان یجوز إعادۃ الجماعۃ فی المسجد لما ترک الصلاۃ فی المسجد و الصلاۃ فیہ أفضل و ھذا عندنا الخ( کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج 1، ص 135، ط: إدارۃ القرآن و العلوم إلاسلامیۃ)-
و فی الدر المختار: و یکرہ تکرار الجماعۃ بأذان و إقامۃ فی مسجد محلّۃ لا فی مسجد طریق أو مسجد لا امام لہ ولا مؤذن إلخ
و فی الرد تحت( قولہ: یکرہ)أی تحریماً لقول الکافی لا یجوز، و المجمع لا یباح، و شرح الجامع الصغیر إنّہ بدعۃ کما فی رسالۃ السندیّ( قولہ: بأذان وإقامۃ الخ) عبارتہ فی الخزائن: أجمع ممّا ھنا و نصبھا: یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلّۃ بأذان و إقامۃ، إلا إذا صلّیٰ بھما فیہ أوّلاً غیر أھلہ أو أھلہ لکن بمخافتۃ الأذان، الخ( کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج 1، ص 552، ط: ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73544کی تصدیق کریں
0     561
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات