السلام علیکم! عرض یہ ہے کہ میرا بیٹا جس کی عمر ۱۳ سال ہے، میں اپنے محلے کی مسجد میں نماز ادا کرنے اُسے بھی ساتھ لے کر جاتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کے امام اور دوسرے نمازی اُسے صف سے باہر کر دیتے ہیں، اُن لوگوں کا کہنا ہے کہ نابالغ بچہ کا آگےصف میں کھڑے ہونے سے دائیں بائیں نمازیوں کو کراہت محسوس ہوتی ہے، اس لیے نابالغ بچہ کا صف میں کھڑا کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے بچہ کو دوسری یا تیسری سے بھی ہٹا دیتے ہیں، یہ عمل نہ صرف میرے بچے کے ساتھ کرتے ہیں، بلکہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہتا ہے، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ :
۱۔ کس عمر کے بچے پر نماز فرض ہو جاتی ہے؟
۲۔کس عمر سے بچے دوسرے نمازیوں کے ساتھ صف میں باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں؟
۳۔کیا ہمارے مسجد کے امام صاحب کو مؤقف درست ہے؟
۴۔ اگر مسجد کے امام صاحب کا مؤقف غلط ہے، تو کیا مجھے مسجد بدل لینی چاہیے ، جہاں میں اپنے بچے کو بھی اپنے ساتھ صف میں کھڑا کر کے نماز ادا کروا سکوں؟
اگرچہ نماز بالغ ہونے پر ہی فرض ہوتی ہے، تاہم احادیث مبارکہ سے یہ امر بخوبی ملتا ہے کہ ، بچہ جب سات سال کا ہو ، تو اُسے نماز کا حکم کرو اور دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر بطورِ تنبیہ اس کی پٹائی کرو ، یہ سب امور بچوں کی تربیت میں داخل ہیں، اس لیے سائل کا اپنے تیرہ سالہ بچے کو مسجد کا اور نماز کا پابند بنانا قابلِ تعریف ہے، یہی وجہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے مردوں کی صف کے بعد بچوں کی صف بندی کا حکم دیا ہے ، ایسے بڑے اور سمجھدار بچوں پر امامِ مسجد یا دیگر نمازیوں کا ناراض ہونا مسئلہ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر ہے، انہیں اگر اپنے ساتھ صف میں برابر کھڑا کر دیا جائے ، تو اس سے بھی کسی کی نماز میں خلل نہیں پڑتا، بلکہ نماز بلاشبہ، بلاکراہت ادا ہو جاتی ہے، جبکہ زیادہ ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ انہیں الگ سے پچھلی صف میں کھڑا کرنے کے بجائے متفرق طور پر صفوں میں کھڑا کر دیا جائے ، تاکہ مسجد میں شورو شغب اور شرارتیں کرنے سے دوسرے لوگوں کی نمازیں خراب نہ ہوں۔
ففی مشكاة المصابيح: عن أبي مالك الأشعري قال: ألا أحدثكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أقام الصلاة وصف الرجال وصف خلفهم الغلمان ثم صلى بهم فذكر صلاته اھ (1/ 348)
وفی الدر المختار: (هي فرض عين على كل مكلف) اھ (1/ 351)
وفی حاشية ابن عابدين: ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل ولو أنثى أو عبدا اھ(1/ 352)
وفی تنویر الابصار: یصف الرجال (ثم الصبيان) ظاهره تعددهم، فلو واحدا دخل الصف اھ (1/ 571)
وفی تقریرات الرافعی: یتعین فی زماننا ادخال الصبیان فی صفوف الرجال لأن المعهود منهم إذا إجتمع صبیان فاکثر تبطل صلاة بعضهم ببعض اھ (۱/ ۷۲) واللہ أعلم بالصواب!