کیا مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے؟جواب دیوبند مسلک کے مطابق چاہیئے۔
واضح ہوکہ مرد وعورت کی نماز میں فرق کئی وجوہ سے ہے، جو کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، چنانچہ مرد تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھائے گا، مگر عورت اپنے سینے تک اٹھائیگی، مرد اپنے دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھے گا، جبکہ عورت اپنے سینے پر باندھےگی، اسی طرح مرد رکوع کی حالت میں اپنی کمر سیدھی رکھے گا، جبکہ عورت معمولی سا جھکے گی، اور مرد سجدے میں اپنے بازؤوں کو کھڑا رکھے گا، جبکہ عورت سجدے میں جاتے ہوئے پہلے دونوں پاؤں کو باہر نکال کر بیٹھے گی پھر سجدہ کرے گی، اس طرح کہ اپنے دونوں بازؤوں کو زمین پر بچھا کر اپنے آپ کو سمیٹ کر سجدہ کریگی، اور جب تشھد میں بیٹھے گی تو اپنے دونوں پاؤں کو باہر نکال کر بیٹھے گی، وغیرہ ، مزید معلومات کے لئے اس سلسلہ میں لکھی گئی کتب کا مطالعہ مفید رہےگا۔
کمافی المراسیل لأبی داؤد: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ فَقَالَ: «إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ»(ج1 ص117 رقم87 جامع الصلاۃ ط مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)۔
وفی کنزالعمال: عن علي رضي الله عنه قال: "إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها"(ج8 ص165 رقم 22400 صلاۃ المرأۃ ط مؤسسۃ الرسالۃ)۔
وفیہ ایضاً: إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى فإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها،(ج7 ص549 الباب الرابع فی صلاۃ المسافر رقم 20203)۔
وفی المغنی لابن قدامۃ: قَالَ عَلِيٌّ، كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ: إذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ فَلْتَحْتَفِزْ وَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا.(ج1 ص403 مسألۃ یثبت فی حق المرأۃ رقم 783 ط مکتبۃ القاہرۃ)۔
وفی الدرالمختار: (ترفع) بحيث يكون رءوس أصابعها (حذاء منكبيها) وقيل كالرجل الخ(ج1 ص 483باب الصفۃ الصلاۃ ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر، وحررنا في الخزائن أنها تخالف الرجل في خمسة وعشرين.الخ (ج1 ص504 فروع قرأ بالفارسیۃ باب الصفۃ الصلاۃ ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وحررنا في الخزائن إلخ) وذلك حيث قال تنبيه ذكر الزيلعي أنها تخالف الرجل في عشر، وقد زدت أكثر من ضعفها: ترفع يديها حذاء منكبيها، ولا تخرج يديها من كميها، وتضع الكف على الكف تحت ثديها، وتنحني في الركوع قليلا، ولا تعقد ولا تفرج فيه أصابعها بل تضمها وتضع يديها على ركبتيها، ولا تحني ركبتيها، وتنضم في ركوعها وسجودها، وتفترش ذراعيها، وتتورك في التشهد وتضع فيه يديها تبلغ رءوس أصابعها ركبتيها، وتضم فيه أصابعها،الخ (ج1 504 باب الصفۃ الصلاۃ ط سعید)۔