یتیم کا مال تھا، تین لاکھ روپے، اس پر اس کے چچا نے کاروبار شروع کیا، جب یہ یتیم بڑا ہو گیا تو چچا نے اسے تین لاکھ روپے دیے اور اس سے کہا کہ یہ تین لاکھ روپے آپ کے ہیں، اور آپ کے پیسوں پر کاروبار میں نے اپنے لیے شروع کیا تھا،اب اس کاروبار کا کیا حکم ہوگا؟ یہ صرف چچا کا ہوگا یا صرف یتیم کا یا دونوں کا؟ اور اس کے نفع کا کیا حکم ہوگا؟بینوا وتوجروا
صورتِ مسئولہ میں اگر یتیم کے مذکور چچا کو ان یتیم بچوں کے والد یا دادا نے وصی مقرر کیا ہو تو اس صورت میں اسے بغرض حفاظت مذکور رقم کاروبار میں لگانا جائز تھا، اور اگر والد یا دادا نے اسے وصی مقرر نہ کیا ہو تو اس کے لیے مذکور رقم کاروبار میں لگا کر اس سے منافع حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی،بہر دو صورت مذکور رقم سے حاصل ہونے والا نفع اس چچا کے لیے حلال نہیں، پہلی صورت میں اس نفع کا حقدار یتیم بچہ ہی ہے، جبکہ دوسری صورت میں اگرچہ یتیم بچہ اس نفع کا مطالبہ نہیں کر سکتا، لیکن فقہائے کرام نے اس منافع کو یتیم کے سپرد کرنے کو افضل قرار دیا ہے، بصورتِ دیگر اس چچا کے لیے وہ نفع بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ،(سورۃ الانعام 152)-
کما فی الفتاوى الهندية: قال: وللوصي أن يتجر بمال اليتيم في المبسوط، ولا يجوز للوصي أن يتجر لنفسه بمال اليتيم أو الميت، فإن فعل وربح يضمن رأس المال ويتصدق بالربح في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، كذا في فتاوى قاضي خان. للوصي أن يدفع مال الصغير مضاربة وأن يشارك به غيره وأن يبضعه، كذا في المحيط، (ج:6، ص: 147)-
و فی فقہ البیوع: والحاصل أنه يجب على الغاصب أن يتصدق بهذا الربح والغلة على مذهب أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، وهو المختار. ويجوز له أيضاً أن يُسلّم الربح أو الغلة إلى المغصوب منه كما مر عن الزيلعي ومثله في الفتاوى الهندية عن المحيط أن له الخيار بين أن يتصدق أو يرد الأجرة إلى المغصوب منه، (القسم الرابع: غلۃ المغصوب و أرباحہ، ج:2، ص: 1044، ط: معارف القران)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0