احکام نماز

نماز کی قرات میں غلطی سے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
77064
| تاریخ :
2024-08-02
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کی قرات میں غلطی سے نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ امام نے جمعہ کی نماز میں سورۃ المنافقون پڑھتے ہوئے ( فأصدق و أکن من الصالحین ) کے بجائے ایک ہی سانس میں ( فأصدق و أکن من الخاسرین ) پڑھ دیا، اور دوبارہ پڑھ کر غلطی کی اصلاح بھی نہیں کی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
( 1 ) کیا اس غلطی کی وجہ نماز فاسد ہوگئی ہے ؟
( 2 ) اگر فاسد ہوگئی ہے تو اس کی وجہ کیاہے ؟ کیا اس غلطی کی وجہ سے ایسا معنی پیدا ہوگیا ہے جس کا اعتقاد کفر ہے ؟ یا فسادِ صلوۃ کی کوئی اور وجہ ہے ؟
(3 ) صورتِ مسئولہ کا اصل جواب تحریر فرماتے ہوئے علیحدہ طور پر اس بات کی بھی وضاحت فرمائیں کہ اگرقرأت میں غلطی ہوجائے تو فساد صلوۃ کے لئے کیا معنی میں ایسا تغیر ضروری ہے جس کا اعتقاد کفر ہو ؟ یا تغیر کی وجہ سے مراد خداوندی اور مقصودِ قرآن کا خلاف ہونا بھی فساد کی وجہ ہوسکتی ہے ، اگرچہ اس کا اعتقاد کفر نہ ہو ؟ از راہِ کرم کتبِ فقہ و فتاوی کی عبارتوں سے ہر جز ء کا جواب مدلل ، مفصل اور بعجلتِ ممکنہ ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ (مستفتی محمد انس قاسمی دہلی انڈیا )

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نماز میں دورانِ قرات کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس کی وجہ سے معنی میں کوئی ایسا تغیر واقع ہو جس کا اعتقاد موجب ِکفر ہو یا وہ مرادِ خداوندی اور مقصودِ قرآنی کے خلاف ہویا معنی بالکلیہ بدل جائے تو اس صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی،اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم اور ضروری ہوگا، ہاں اگر اسی وقت اس غلطی کی تصحیح کرلی جائے تو نماز درست ہوجائے گی۔ اور اگر تغیر ایسا ہو کہ مرادِ خداوندی اور مقصودِ قرآنی کے خلاف نہ ہو اور اس سے معنی اور مراد بھی بالکلیہ نہ بدلے تو اس صورت میں نماز درست ادا ہوجائے گی ، خواہ ایک حرف میں تغیر ہوجائے یا ایک سے زائد میں، دونوں کا حکم ایک ہی ہے ، اور اگر کسی نے ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ لیا ، جس کی وجہ سے معنی بدل جائے، اگر ان دونوں حرفوں میں بغیر کسی مشقت کے آسانی سے فرق کیا جاسکتا ہو، مگر اس نے فرق نہیں کیا، تو اس صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر ان دونوں حرفوں کے درمیان فرق کرنا دشوار ہو، جیسے کہ سین اور صاد، ظاء اور ضاد، اسی طرح طاء اور تاء کے درمیان، تو اس صورت میں اگر کسی نے قصداً پڑھ لیا تو نماز فاسد ہوجائے گی ، اور اگر بلا قصد زبان سے نکل گیا ، یا ایسا ناواقف ہو کہ وہ ان حرفوں میں فرق کو واضح نہیں کرسکتاتو اس کی نماز درست ہوجائے گی۔
اسی طرح اگر کسی نے دورانِ قرآءت ایک لفظ کو زیادہ کرکے پڑھاجس کی وجہ سے معنی میں تغیر واقع ہوجائے، تب بھی نماز فاسد ہوجائے گی ، خواہ وہ زائد لفظ قرآنِ کریم میں کسی اور مقام پر موجود ہو یا نہ ہو،اس سے حکم میں کوئی فرق نہیں آئے گا، اور اگر اس لفظ کے اضافے کی وجہ سے معنی میں تغیر نہیں ہوا، لیکن یہ لفظ قرآنِ کریم میں کسی اور مقام پرموجود ہو تو بالاتفاق نماز درست ہوجائے گی ۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں امام کا سورۃ المنافقون کی آیت فأصدق وأکن من الصالحین کی جگہ فأصدق و أکن من الخاسرین پڑھنے کی صورت میں تصحیح نہ کرنے کی وجہ نماز فاسد ہوگئی ہے ۔ اور فسادِ صلوۃ کی وجہ یہ ہے کہ معنی میں ایسا تغیر واقع ہوا ہے جو مرادِ خداوندی اور مقصودِ قرآنی کے خلاف ہے ۔ لہذا نماز کے فاسد ہونے کے بعد اگر وقت کے اندر نماز جمعہ کا اعادہ نہ کیا گیا ہو تو تمام مقتدیوں پر اس دن ظہر کی قضاء لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : و منھا زلۃ القاری فلو فی إعراب أو تخفیف مشدد و عکسہ أو بزیادۃ حرف إلخ
و فی رد المحتار : تحت : ( قولہ و منھا زلۃ القاری ) قال فی شرح المنیۃ : اعلم أن ھذا الفصل من المھمات، و ھو مبنی علی قواعد ناشئۃ عن الاختلاف ( إی قولہ ) و القاعدۃ عند المتقدمین أن ما غیر المعنی تغییراً یکون اعتقادہ کفراً یفسد فی جمیع ذلک سواء کان فی القرآن أو لا إلا ماکان من تبدیل الجمل مفصولاً بوقف تام وإن لم یکن التغییر کذالک. وکذا إذا لم یکن مثلہ فی القرآن و المعنی بعید متغیر تغیراً فاحشاً یفسد أیضاً کھذا الغبار مکان ھذا الغراب، و کذا إذا لم یکن مثلہ فی القرآن ولا معنی لہ کالسرائیل باللام مکان السرائر و إن کان مثلہ فی القرآن والمعنی بعید ولم یکن میتغیر فاحشاً تفسد أیضاً عند أبی حنیفۃ و محمد و ھو الاحوط إلخ ( مطلب فی مسئلۃ زلۃ القاری، ج 1، ص 630، ط سعید )-
و فیہ أیضاً : و لو زاد کلمۃ أو نص کلمۃ أو نقص حرفاً أو قدمہ أو بدلہ بآخر نحو من ثمرۃ إذا أثمر واستحصد - تعالیٰ جد ربنا – انفرجت بدل انفجرت أیاب بدل أواب لم تفسد مالم یتغیر المعنی إما مایشق تمییزہ کالضاد و الطاء فأکثرھم لم یفسدھا إلخ ( ج 1، ص 632، چ سعید )-
و فیہ أیضاً ( قولہ ولو زاد کلمۃ ) اعلم أن الکلمۃ الزائدۃ إما أن تکون فی القرآن أو لا و علی کل إما أن تغیر أو لا فإن غیرت أفسدت مطلقاً نحو – و عمل صالحاً – و کفر – فلھم أجرھم – نحوہ و أما ثمود فھدیناھم – و عصیناھم وإن لم تغیر، فأن کان فی القرآن نحو – و بالوالدین احسانا – و برآ لم تفسد فی قولھم و إلا نحو – فاکھۃ و نخل – تفاح – ورمان – و کمثال الشارح الآتی لا تفسد و عند أبی یوسف تفسد لأنھا لیست فی القرآن کذا فی الفتح و غیرہ إلخ ( ج 1، ص 632، چ سعید )-
و فی خلاصۃ الفتاویٰ : و فی زلۃ القاری للصدر الشھید إذا جری علی لسان المصلی خطأ لا یخلو إما أن حرفاً مکان حرف أو زاد حرفاً أنقص أو قدم المؤخر أو أخر المقدم و إما أن کان کلمۃ مکان کلمۃ أو زاد کلمۃ أو نقص أو قدم أو اخر و إما أن قرأ آیۃ مکان آیۃ أو نقص أو زاد أو قدم المؤخر أو اخر المقدم إما إذا قرأ حرفاً مکان حرف و لم یغیر المعنی بأن قرأ أن المسلمین أن المسلمون لا یفسد و کذا لو قرأ أیاب مکان أواب ھذا إذا لم یختلف المعنی و ھو فی القرآن، فإن لم یختلف لکن ما قرأ لیس فی القرآن نحو أن قرأ کونوا قیامین بالقسط أو التیامین و أیابین أو الحی القائم عندھا لا یفسد و عند أبی یوسف یفسد و إن اختلف المعنی و ما قرأ لیس فی القرآن کأصحاب الشعیر بالشین یفسد عند الکل إلخ ( الفصل الثانی عشر فی زلۃ القاری، ج 1، ص 150، ط رشیدیۃ )-
و فی فتح القدیر : و أما الکلمۃ مکان الکلمۃ فإن تقاربا معنیً و مثلہ فی القرآن کالحکیم مکان العلیم لم تفسد اتفاقاً و إن لم یوجد فی القرآن کالفاجر مکان الأثیم و إیاہ مکان أواہ فکذالک عندھما و عند أبی یوسف روایتان فلو لم یتقاربا و لا مثل لہ فسد اتفاقاً إذا لم یکن ذکر و أن کان فی القرآن و ھو ما اعتقادہ کفر کغافلین فی إذا کنا فاعلین فعامۃ المشایخ علی أنہ تفسد اتفاقاً إلخ ( فصل فی القرآت ج 1، ص 281 ، ط رشیدیۃ )-
و فی الدر المختار: (وإذا ‌ظهر ‌حدث ‌إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا اھ
و فی رد المحتار تحت: (قوله وإذا ‌ظهر ‌حدث ‌إمامه) أي بشهادة الشهود أنه أحدث وصلى قبل أن يتوضأ أو بإخباره عن نفسه ( إلی قولہ) (قوله فيلزم إعادتها) المراد بالإعادة الإتيان بالفرض بقرينة قوله بطلت اھ ( باب الإمامۃ، ج:1،ص: 591، ناشر: سعید )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77064کی تصدیق کریں
1     648
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات