احکام نماز

پیشاب کی تھیلی کے ساتھ نماز اور تلاوت وغیرہ کا حکم

فتوی نمبر :
77121
| تاریخ :
2024-08-03
عبادات / نماز / احکام نماز

پیشاب کی تھیلی کے ساتھ نماز اور تلاوت وغیرہ کا حکم

کیا کوئی شخص جس کے مستقل Urine bag (پیشاب کی تھیلی)قریب چار سال سے لگا ہو ،وہ قرآن کی تلاوت و نماز کی ادائیگی کر سکتا ہے ؟اگر کر سکتا ہے تو کیا عمرہ کی ادائیگی کر سکتا ہے؟ سوال نمبر 2 کیا موبائل پہ قرآن کی باقاعدہ تلاوت کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے ؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرپیشاب کی تھیلی ہٹا کر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو تھیلی کے ساتھ ہی نماز پڑھنا درست ہے، اورایساشخص شرعاً معذور کے حکم میں داخل ہے، اور معذور کیلئے شرعی حکم یہ ہےکہ وہ ہر فرض نمازکا وقت داخل ہونے پر تازہ وضوکرلیا کرے،اور اس وضو سے اگلی فرض نماز کا وقت شروع ہونے تک فرض نماز کے ساتھ وہ تمام عبادات جن کی ادائیگی کے لیے طہارت شرط ہے وہ ادا کر سکتا ہے ، بشرطیکہ اس دوران کسی دوسرے سبب مثلا پاخانہ یاریح وغیرہ سے وضو نہ ٹوٹے اور اگر کسی دوسرے سبب سے وضو ٹوٹا تو اس وقت میں دوبارہ وضو کرنا لازم ہوگا، لہذا ایسا معذور پیشاب کی تھیلی لٹکتے ہوئے ایک بار وضو کر لینے کے بعد اس وضو سے نماز اور تلاوتِ قرآن نیز اگر کسی معذوری کی حالت میں عمرہ ادا کرنا چاہے کر سکتا ہے ،خواہ اس دوران پیشاب مسلسل تھیلی میں ٹپکتا رہے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ نماز سے پہلے پیشاب کی تھیلی ایک دفعہ خالی کر لیا کرے ،لیکن اگلی نماز کا وقت داخل ہوتے ہی سابقہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اگلی فرض نماز و دیگر عبادات کے لیے ازسر نو وضو کرنا لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الھندیۃ: المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق، الخ (کتاب الطھارۃ، ‌‌الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،ج 1، ص 41، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
فی الدر المختار : (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة، (إلی قولہ) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه، وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر، الخ (کتاب الطھارۃ، ‌‌باب الحيض، مطلب في أحكام المعذور، ج 1، ص 305-306، ط: ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77121کی تصدیق کریں
0     454
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات