احکام نماز

بیماری کی وجہ سے ایک عورت کا کسی دوسری عورت کی امامت کرنا

فتوی نمبر :
77465
| تاریخ :
2024-08-17
عبادات / نماز / احکام نماز

بیماری کی وجہ سے ایک عورت کا کسی دوسری عورت کی امامت کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، میری والدہ نفسیاتی مرض اور دوسری وجوہات کی بنا پر نماز پڑھنے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرتی ہیں، اور اسکی وجہ سے اپنے آپکو ملامت بھی کرتی رہتی ہیں اور کبھی کبھار دلبرداشتہ ہو کر چھوڑ بھی دیتی ہیں،میراسوال یہ ہے کہ میری اہلیہ امام بن جائے اور میری والدہ مقتدی بن کر فرائض اور وتر ادا کرسکتی ہیں؟ کیا یہ صورت اختیار کر کے میری اہلیہ اور والدہ کی نماز ادا ہوجائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ تحریمی ہے، لہذا سائل کی بیوی کا سائل کی والدہ کو باجماعت نماز پڑھانا درست نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،تاہم اگر مذکور نفسیاتی مرض کی وجہ سے دوران نماز قرات یا تعداد رکعات میں شک رہتا ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ وہ قریب بیٹھ کر ان کو تلقین کرتی رہا کرے،تاکہ وہ اپنی نماز آسانی کے ساتھ مکمل کرسکے،چنانچہ اس طرح کرنے سے ان کی نماز درست ادا ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

و في الدر المختار : ( و ) یكره تحريما ( جماعة النساء ) ولو فی التراویح فی غیر صلاة جنازة لانها لم تشرع مکررۃ (باب الامامة ، ج 1 ، ص 565،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ولو اشتبه على مريض أعداد الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية اھ(ج2،ص100،ط:سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: (قوله ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح اھ (قوله ينبغي أن يجزيه) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة ط.قلت: وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام فتأمل. (ج2،ص100،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77465کی تصدیق کریں
1     636
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات