حضرات مفتیانِ کرام : السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ ہمارے دینی ادارے میں شعبہ حفظ کی برانچ مسجد سے الگ بلڈنگ میں بنی ہوئی ہے، جس میں تقریباً 500 تعداد ہے،جس میں اکثریت بچے نابالغ اور کچھ بالغ بھی ہیں،جمعہ کے دن مدرسہ کی چھٹی نہیں ہوتی،موجودہ حالات کی بناء پر چھٹی اتوار کو ہوتی ہے،اگر اتوار کی چھٹی نہ کی جائے تو طلباء چھٹیاں زیادہ کرلیتے ہیں،اس لیے اتوار کو چھٹی ہوتی ہےاور جمعہ کو پڑھائی کی جاتی ہے،جس دن جمعہ کو پڑھائی ہوتی ہےتو نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے کیا نابالغ بچوں کو اور بالغ بچے بمعہ اساتذہ کرام کی نگرانی میں جو ہمارا دارالقرآن ہال(نئی بلڈنگ) ہے وہاں پر جمعہ کی نیت سے جمعہ کروالیا جائے اور اس میں طلباء ،اساتذہ کرام شریک ہوجائیں،تو کیا اس کی اجازت ہے یا ان کو مسجد میں لانا ضروری ہے؟
مسجدمیں لانے سے ایک تو نمازیوں کی گنجائش کے اعتبار سے مسئلہ بنتا ہے، جب اتنی بڑی تعداد میں مسجد میں آئینگے تو نابالغ بچوں کی وجہ سے اہلِ علاقہ کے نمازی متاثر ہوتے ہیں،ان کو جگہ ملنے میں دُشورای پیش آتی ہے تو کیا اس کی شرعی طور پر کوئی گنجائش ہے کہ ان کو نمازِجمعہ کی ادائیگی کے لیے دارالقرآن کے ہال میں نمازِجمعہ کی ادائیگی کا نظم کردیا جائےاور وہاں پر باقاعدہ نمازِ جمعہ ،خطبہ ہواور نمازِ جمعہ کی ادائیگی کی جائے؟حضراتِ علمائے کرام اس میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
واضح ہوکہ جمعہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد مسلمانوں کی اجتماعیت اور ان کی شان وشوکت کا اظہار بھی ہے،اس لیے اگر شعبہ حفظ کے طلباء اور اساتذہ کےمسجد میں آنے کی وجہ سے بہت زیادہ دشواری اور مشقت کا سامنا نہ ہو تو بہتر یہ ہیکہ دارالقرآن شعبہ حفظ میں مستقل جمعہ قائم کرنے کے بجائے جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کی جائے،البتہ اگرشعبہ حفظ کے طلباء کے مسجد آنے میں دشواری کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں دارالقرآن شعبہ حفظ میں اگر جمعہ کی نماز میں امام کے علاوہ کم ازکم تین بالغ طلباء کرام موجود ہوں تو ان کے لیے دار القرآن شعبہ حفظ میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز اور درست ہوگا،تاہم وہاں نماز پڑھنے کی صورت میں مسجد کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔
کمافی الهداية: ومن شرائطها الجماعة " لأن الجمعة مشتقة منها " وأقلهم عند أبي حنيفة رحمه الله ثلاثا سوى الإمام وقالا اثنان سواه " قال رضي الله عنه والأصح أن هذا قول أبي يوسف رحمه الله وحده له أن في المثنى معنى الاجتماع وهي منبئة عنه ولهما أن الجمع الصحيح إنما هو الثلاث لأنه جمع تسمية ومعنى والجماعة شرط على حدة وكذا الإمام فلا يعتبر منهم الخ (ج1 ص179 کتاب الصلوۃ،باب الجمعۃ ط: رحمانیۃ)۔
وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام: (قوله: ويكره أن يصلي المعذور الظهر بجماعة) قبل الجمعة، وكذا بعدها، ومن فاتتهم الجمعة فصلوا الظهر تكره لهم الجماعة أيضا (قوله: لما فيه من الإخلال بالجمعة إذ هي جامعة للجماعات) هذا الوجه هو مبني على عدم جواز تعدد الجمعة في المصر الواحد، وعلى الرواية المختارة عند السرخسي وغيره من جواز تعددها، فوجهه أنه ربما يتطرق غير المعذور إلى الاقتداء بهم، وأيضا فيه صورة معارضة الجمعة بإقامة غيرها الخ(ج2 ص65 باب الجمعۃ ط: دارالفکر)۔
وفی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: "و" السادس "الجماعة" لأن الجمعة مشتقة منها ولأن العلماء أجمعوا على أنها لا تصح من المنفرد "و" واختلفوا في تقدير الجماعة فعندنا: "هم ثلاثة رجال" وإن لم يحضروا الخطبة وقد جاءوا فإن صرف من شهدها وصلى بهم الإمام جاز من غير إعادة الخطبة في ظاهر الرواية وهم "غير الإمام" عند الإمام الأعظم ومحمد وقال أبو يوسف اثنان سوى الإمام لما في المثنى من معنى الاجتماع ولهما إن الجمع الصحيح إنما هو الثلاثة الخ(ص194 باب الجمعۃ ط: المکتبۃ العصریۃ)۔
وفی المبسوط للسرخسي: والجماعة من شرائطها لظاهر قوله تعالى {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] ولأنها سميت جمعة وفي هذا الاسم ما يدل على اعتبار الجماعة فيها (الی قولہ) ثم يشترط في الثلاثة أن يكونوا بحيث يصلحون للإمامة في صلاة الجمعة حتى أن نصاب الجمعة لا يتم بالنساء والصبيان ويتم بالعبيد والمسافرين لأنهم يصلحون للإمامة فيها الخ(ج2 ص24 باب الجمعۃ ط: دارالمعرفۃ،بیروت)۔