مباحات

Can a woman drive a car or ride a motorcycle?

فتوی نمبر :
78075
| تاریخ :
2024-09-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

Can a woman drive a car or ride a motorcycle?

عنوان:عورت کے لئے گاڑی چلاناکیساہے ؟ سوال:مسئلہ کچھ اسطرح ہے کہ کیاعورت شرعی لباس میں رہ کرگاڑی یا (Bike) چلاسکتی ہے ؟دو پہیہ یاچارپہیہ گاڑی،اگر جواب ہاں ہے تو کس اصل سے متعلق سمجھاجائے گا؟براہ مہربانی تفصیلاجواب ارسال فرماکرشکریہ کاموقع عنایت فرمائیں کتابت میں خطاہوئی ہوتوبندہ معافی کاطلب گارہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عورت کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ وہ گھر میں رہے، بغیر کسی عذر شرعی کے گھر سے باہر نہ نکلے، البتہ کسی واقعی ضرورت اور حاجت کے پیش نظر شرعی حدود وقیود کا اہتمام کرتے ہوئے پردہ اور حجاب کے ساتھ اندرون شہر کی حدتک گھر سے باہر جاسکتی ہے، اور اگر اس دوران اسے گاڑی وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے اور گھر میں کوئی مرد ڈرائیو کرنے والا موجود نہ ہو، تو ضرورت کے پیش نظر وہ ڈرائیو بھی کرسکتی ہے،البتہ بلا ضرورت فقط تفریح کے لئے ڈرائیو کرنے سے اجتناب بہتر ہے، جبکہ شہر سے باہر مسافت شرعیہ (سوا اٹہتر کلو میٹر) کے بقدر سفر پر نکلنے کی صورت میں محرم کاساتھ ہونا ضروری ہے، بغیر محرم کے اس قدر سفر کرنا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالٰی: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33)سورۃ الاحزاب)۔
آسان ترجمہ قرآن : اور اپنے گھروں میں قرار کےساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا،اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو،اور اللہ اور اسکے رسول کی فرماں برداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں پاکیز گی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔(ص823 ط: معارف القرآن)۔
معارف القرآن میں حضرت مفتی شفیع صاحب ؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: وقرن فی بیوتکن میں عورتوں پر قرار فی البیوت واجب کیا گیا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کے لئے گھر سے باہر نکلنا مطلقاً ممنوع اور حرام ہو، مگر اول تو خود اسی آیت ولا تبرجن سے اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ مطلقاً خروج بضرورت ممنوع نہیں، بلکہ وہ خروج ممنوع ہے جس میں زینت کا اظہار ہو، دوسرے سورہ احزاب کی آیت جو آگے آرہی ہے، اس میں خود یدنین علیھن من جلابیبھن کا حکم یہ بتلا رہا ہےکہ کسی درجہ میں عورتوں کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی ہے، بشرطیکہ برقع وغیرہ کے پردہ کے ساتھ نکلیں۔
اس کے علاوہ خود رسول ﷺ نے مواضع ضرورت کا اس حکم سے مستثنی ہونا ایک حدیث میں واضح فرمایا، جس میں ازواج مطہرات کو خطاب کرکے فرمایا قد اذن لکن ان تخرجن لحاجتکن۔ رواہ مسلم، یعنی تمہارے لئے اس کی اجازت ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے گھر سے نکلو ۔( مزید کچھ سطور آگے جاکر فرماتے ہیں) خلاصہ یہ ہے کہ آیت وقرن فی بیوتکن کے مفہوم سے باشارات قرآن اور بعمل نبی کریم ﷺ اور باجماع صحابہ مواقع ضرورت مستثنیٰ ہیں، جس میں عبادات حج وعمرہ بھی داخل ہیں، اور ضروریاتِ طبعیہ والدین اور اپنے محارم کی زیارت، عیادت وغیرہ بھی، اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریات زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو تو پردہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لئے نکلنا بھی، البتہ مواقع ضرورت میں خروج کے لئے شرط یہ ہے کہ اظہار زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقع یا جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں (ج7 ص133-135 ط: ادارۃ المعارف )۔
وفی الدر المختار: لا تركب مسلمة على سرج للحديث. هذا لو للتلهي، ولو لحاجة غزو أو حج أو مقصد ديني أو دنيوي لا بد لها منه فلا بأس به الخ (ج6 صـ423 کتاب الحظر والاباحۃ ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: للحديث) وهو " «لعن الله الفروج على السروج» ذخيرة. لكن نقل المدني عن أبي الطيب أنه لا أصل له اهـ. يعني بهذا اللفظ وإلا فمعناه ثابت، ففي البخاري وغيره «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال» وللطبراني «أن امرأة مرت على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - متقلدة قوسا فقال: لعن الله المتشبهات من النساء بالرجال والمتشبهين من الرجال بالنساء» " (قوله ولو لحاجة غزو إلخ) أي بشرط أن تكون متسترة وأن تكون مع زوج أو محرم (قوله أو مقصد ديني) كسفر لصلة رحم الخ (ج6 صـ423 کتاب الحظر والاباحۃ ط: دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78075کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات