محترم مفتی صاحب!آج کل کئی آن لائن کاروباری افراد اپنا سامان فروخت کرتے ہیں اور فروخت کے بعد مہینے کے آخر میں تمام خریداروں کے نام جمع کرکے قرعہ اندازی کرتے ہیں،اس قرعہ اندازی میں کچھ لوگوں کو حج عمرہ ،موٹر سائیکل ،فریج وغیرہ جیسی چیزیں بطورِ تحفہ دی جاتی ہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ ان کا یہ کاروباری عمل کس حد تک شریعت کے مطابق ہے؟ اور کیا ایسی صورت میں ان کا سامان خریدا جاسکتا ہے؟ نیز اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟مہربانی فرماکر تفصیل سے دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں تاکہ مجھے فائدہ حاصل ہوسکے،ان شاء اللہ! آپ کے جواب کا منتظررہوں گا۔
واضح ہوکہ سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق فروختگی اور مہینے کے آخر میں خریداروں کے نا م جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے،
(1)فروخت کرنے والا اپنی اشیاء کو بازار میں رائج قیمت پر فروخت کررہا ہو،انعام کی بناء پر بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت نہ کرے۔
(2) فروخت کرنے والا انعامی اسکیم کو اپنی ناقص اور گٹھیا مصنوعات کےنکالنے اور رائج کرنے کا ذریعہ نہ بنائے۔
(3) خریدار کا مقصد بھی مصنوعات اور اشیاء کی خریداری اور اس سے نفع حاصل کرنا ہو،انعام کی خاطر خریداری نہ کرے۔
لہذا ان شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اگر یہ معاملہ کیا جائے تواس کی شرعاً گنجائش ہے،لیکن اگر ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائےتویہ معاملہ شرعاً جائز نہ ہوگا،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: وإنّ النوع الأول من ھذہ الجوائز غالباً ماتمنح علی أساس القرعۃ ونحوھا،لمشتری بضاعۃ مخصوصۃ أو منتج مخصوص،فإنّ کثیراً من التجّار یعلنون جوائز یوزّعونھا علی جملۃ منتخبۃ من المشترین،الذین یشترون بضاعتھم، ویقع انتخاب المجازین إمّا عن طریق القرعۃ،أو علی أساس أرقام الکوبونات التی توضع مع البضاعۃ.
فمن اشتری بضاعۃ حصل علی کوبون، فلو وافق رقم کوبونہ الرقم المنتخب للجائزۃ، استحقّ أن یجوز الجائزۃ المخصصۃ لذلک الرقم.
وإنّ حکم مثل ھذہ الجوائز أنھا تجوز بشروط:
الشرط الاول: أن یقع شراء البضاعۃ بثمن مثلہ، ولایزاد فی ثمن البضاعۃ من أجل احتمال الحصول علی الجوائز، وھذا لأنّہ إن زاد البائع علی ثمن المثل، فالمقدار الزائد إنما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائزۃ المحتملۃ، فصارت الجائزۃ بمقابل مالیّ فلم تبق تبرُّعاً، وإنّ ھذا المقابل المالیّ إنما وقع بہ المخاطرۃ، فصارت العملیّۃ قماراً.
أما إذا بیعت البضاعۃ بثمن مثلھا، فإن المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذلہ، ولم یخاطر بشیء، فالجائزۃ التی یحصل علیھا جائزۃ بدون مقابل، فیدخل فی التبرعات المشروعۃ.
الشرط الثانی: أن لاتتخذ ھذہ الجوائز ذریعۃ لترویج البضاعات المغشوشۃ، لأن الغشّ والخداع حرام لایجوز بحال.
الشرط الثالث: أن یکون المشتری یقصد شراء المنتج للانتفاع بہ، ولایشتریہ لمجرد مایتوقع من الحصول علی الجائزۃ، لأنہ إن لم یکن یقصد شراء المنتج،فإنّ مایبذلہ من الثمن، إنّما یبذلہ من أجل الجائزۃ، فکأنّ فیہ شبھۃ المخاطرۃ،فلایخلومن شبھۃ القمار.(ج2 ص158 ط: دارالعلوم کراتشی)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0