احکام نماز

نماز کا مذاق اڑانے والے شخص کے بارے میں شرعی حکم

فتوی نمبر :
80470
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کا مذاق اڑانے والے شخص کے بارے میں شرعی حکم

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص جائےنماز پر کھڑے ہو کرنماز کی بے حرمتی کرتا ہے ، وہ نماز ادا کرتا ہے ،پیچھے سے ایک خاتون آتی ہے،وہ اس سے نماز کے دوران پوچھتی ہے کہ یہ صباء جان کون ہے آپ کے فون پر؟تو وہ شخص جائے نماز پر نماز کے دوران ہی مذاق کے انداز میں چاروں اطراف میں آنکھیں گھماتا ہے، پھرنماز میں ہی اس کی والدہ پوچھتی ہے ، پیچھے سے ہنسی کی آواز اور میوزک کی آواز آتی ہے،پھر اس کی والدہ پوچھتی ہے کہ صباء جان کون ہے؟تو اوپر لکھا ہوا آتا ہےکہ 5000رکعات کے بعدبھی نمازہی مذاق میں ادا کرتا رہتا ہے،اور پھر پیچھے ہنسی میوزک کی آواز آتی ہے ویڈیو میں ،ایک شخص ویڈیو بناکر فیمس ہونے کے لئے سوشل میڈیاپر وائرل کردیتا ہے،اور یہ ویڈیوپوری دنیا میں مسلم غیر مسلم ،اورہر ایک شخص کے پاس جاتی ہے،جب میں یہ ویڈیودیکھتا ہوں ،تو میرا دل ودماغ غصہ کی حالت میں ہوتا ہے،میں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں ،اوراب اس کے خلاف میں نے کورٹ میں کیس بھی کیا ہےکہ ایسے شخص کے لئے شرعاً کیا حکم ہے،جو نمازکو مذاق سمجھتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نمازدینِ اسلام کے شعائر اور بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے ،جس کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا اور عملاً اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے،لہذا اس کا مذاق اڑانا یا اس کے تقدس کو پامال کرنا انتہائی درجے کی ضلالت اور گناہِ کبیرہ ہے، اور جان بوجھ کراس کی تحقیر کرنا اور مذاق اڑانا مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے،لہذا سوال میں مذکور شخص کی طرف منسوب فراہم کردہ ویڈیو اگر مطابقِ اصل ہو،اور اس میں کسی قسم کی جعل سازی سے کام نہ لیا گیا ہو،بلکہ انہوں نے خود یہ ویڈیو بنوا کر اپنی ذاتی آئی ڈی پر اسی طرح شئیر کی ہوتو ان کا یہ عمل شعائرِ اسلام کی بے حرمتی کی وجہ سے انتہائی درجہ کی گمرہ کن ا ور مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے،اور پاکستانی قانون سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سنگین جرم بھی ہے،اس لئے اسے فی الفور اپنے اس شنیع فعل کے ارتکاب پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے عام مسلمانوں سے بھی ان کی دل آزاری پر معافی مانگنا اور آئندہ کے لئے اس طرح کے قبیح حرکات سے اجتناب لازم ہے،بصورتِ دیگرسائل کااس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا بھی درست ہوگا،جبکہ قانون نافذکرنے والے اداروں کو چاہئیے کہ تحقیق وتفتیش کے بعد جرم ثابت ہونے پر اسے قرار واقعی سزا دیکراس قسم کے خلافِ شرع حرکات پر مبنی وی لاگ بنانے پر پابندی عائد کریں،تاکہ دوسرے لوگ بھی اس طرح کی حرکات سے باز رہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : إذا أنكر آية من القرآن و استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوه مما يعظم في الشرع أو عاب شيئا من القرآن أو خطئ أو سخر بآية منه كفر إلا المعوذتين ففي إنكارهما اختلاف والصحيح كفره وقيل إن كان عاميا يكفر وإن كان عالما لا لكن ذهب بعض الفقهاء إلى عدم إيجاب الكفر ويكفر باعتقاد أن القرآن مخلوق حقيقة وكذا بخلق الإيمان ويجب إكفار الذين يقولون إن القرآن جسم إذا كتب وعرض إذا قرئ اھ (1/693)۔
وفی شرح النووی علی مسلم : و الايمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه ورسله و اليوم الآخر و تؤمن بالقدر خيره و شره قال هذا بيان لأصل الايمان و هو التصديق الباطن و بيان لأصل الاسلام و هو الاستسلام و الانقياد الظاهر و حكم الاسلام فى الظاهر ثبت بالشهادتين و انما أضاف اليهما الصلاة و الزكاة و الحج و الصوم لكونها أظهر شعائر الاسلام و أعظمها و بقيامه بها يتم استسلامه و تركه لها يشعر بانحلال قيد انقياده أو اختلاله ثم ان اسم الايمان يتناول ما فسر به الاسلام فى هذا الحديث و سائر الطاعات لكونها ثمرات للتصديق الباطن الذى هو أصل الايمان و مقويات و متممات و حافظات له اھ(1/148)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80470کی تصدیق کریں
0     661
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات