فتاوی فریدیہ کی عبارت کی وضاحت: سوال بعد از سنن تین دفعہ دعا کرنا ، قبروں پر گلپاشی کرنا اور تبرک تقسیم کرنا ؟ جواب : سنن یا فرائض کے بعد دعا کرنا مشروع ہے ، اگر چہ تین دفعہ ہو اگر چہ تین دفعہ ہو ،البتہ التزام ممنوع ہے، البتہ التزام ممنوع ہے ، جن حضرات نے تین دفعہ دعا کو ممنوع قرار دیا ہے وہ التزام کی وجہ سے ہے ، دیو بندینت صحیح حنفیت ہے ، اور قواعد حنفیہ پر فاتحہ خوانی جائز ہے ، پھول رکھنا جائز ہے ، گلپاشی اہل دنیا کی رسم ہے اور ممنوع ہے ، تقسیم ِ تبرک نا مطلوب اور نا ممنوع ہے ، مجموعی حیثیت سے ان امور کا انکار ننگ دیوبندیت ہے ، فقط( فتاوی فریدیہ جلد نمبر1 ص: 330/331، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک )۔
مفتیانِ کرام سے عرض ہے کہ ہمارے اکابر جیسا کہ مولانا یوسف لدھانوی شہیدؒ نے صراط مستقیم میں قبروں پر پھولوں کی چادر اور پھول ڈالنا بدعت لکھا ہے ، تو مفتی فرید صاحب نے یہاں قبر پر پھول رکھنا جائز رکھا ہے ، تو دونوں عبارتوں میں تعارض ہے اس پر وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ” اختلاف امت اور صراطِ مستقیم“ میں جو عبارت ذکر کی ہے ، اس میں حضرت لدھیانوی شہیدؒ نے معاشرے میں اس عمل کے التزام و اہتمام ،یا سنت قرار دینے اور سمجھنے کی وجہ سے اس کو ناجائز کہا ہے ، کیونکہ آپ ﷺ ، صحابہ کرام ،اور تابعین ؒ کے زمانہ مبارک میں کہیں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا ۔
جبکہ حضرت مفتی فرید صاحب ؒ نے” فتاوی فریدیہ“ میں جو اس عمل کو مباح قرار دیا ہے ، اور اس پر فتاوی عالمگیری کی مذکور عبارت ( قال فی الھندیۃ: و ضع الورد و الریاحین علی القبور حسن و إن تصدق بقیمۃ الورد کان أحسن الخ ج: 5، ص: 351 الباب السادس زیارۃ القبور ، ط: ماجدیۃ ) سے استدلال بھی کیا ہے ،تو یہ فی نفسہ اباحت کی حد تک کا قول ہے ،ورنہ التزام اور اہتمام کی وجہ سے اس مروجہ طریقے کو انہوں نے بھی اہل دنیا کی رسم اور ممنوع قرار دیا ہے ،لہذا دونوں حضرات کی عبارات میں کوئی تعارض نہیں ۔
کما فی سنن أبی داود:عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس فھو رد(باب فی لزوم السنۃ ج7 ص15،ط:دار الرسالۃ العلمیۃ)۔
و فی عمدۃ القای شرح صحیح البخاری: أنکر الخطابی ومن تبعہ وضع الجرید الیابس وکذالک ما یفعلہ أکثر الناس من وضع ما فیہ رطوبۃ من الریاحین والبقول و نحوھما علی القبور لیس بشئ الخ(کتاب الوضوء ج:3، ص:180،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی معارف السنن: فترى العامۃ یلقون الزھور علی القبور وبالأخص على قبور الصلحاء والأولياء والجهلة منهم ازدادوا إصراراً على ذلك،و تغالوا فیہ و أوضحت ذلک منشأ فی الجھلۃ لعقائد فاسدۃ تأباها الشريعة النقية. و ظنوا ذلک سببا للثواب و الأجر الجزیل فالمصلحة العامة في الشريعة تقتضی منع ذلک بتاتا استئصالا لشافۃ البدع و حسبما لمادۃ المنکرۃ المحدثة. و بالجملۃ ھذہ بدعۃ مشرقیۃ منکرۃ و بجنبھا بدعۃ أخری مغربیۃ وقد راجت فی کثیر من البلاد المشرقية التي تُدعى بلاداً إسلامية، وهي بلاد مصر وما والاها. و استمع لذلك بلسان بعض علماء القاهرة وقضاۃ مصر فیقول ، ازداد العامة إصراراً على هذا العمل الذي لا أصل له، وغلوا فيه، خصوصاً في بلاد مصر، تقليداً للنصارى، حتى صاروا يضعون الزهور على القبور ويتهادون بينهم، فيضعها الناس على قبور أقاربهم ومعارفهم تحيةً لهم ومجاملةً للأحياء، حتى صارت عادة شبيهة بالرسمية في المجاملات الدولية. فتجد الكبراء من المسلمين إذا نزلوا بلدة من بلاد أو ربا، ذهبوا إلى قبور عظمائهم أو إلى قبر من يسمونه الجندي المجهول، ووضعوا عليها الزهور الصناعية التي لا نداوة فيها، تقليداً للأفرنج واتباعاً لسنن من قبلهم. ولا ينكر ذلك عليهم العلماء أشباه العامة، بل تراهم أنفسهم يصنعون ذلك في قبور موتاهم. ولقد علمتُ أن أكثر الأوقاف التي تُسمى أوقافاً خيرية موقوف ریعها على الخوص والريحان الذي يوضع في القبور، وكل هذه بدع و منكرات لا أصل لها في الدين، ولا مستند لها من الكتاب والسنة، ويجب على أهلِ العلم أن يُنكروها، وأن يُبطلوا هذه العادات ما استطاعوا. انتهى كلامه الخ ( باب التشدید فی البول ج:1، ص:265، 266، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: ( و مبتدع) أی صاحب البدعۃ و ھی إعتقاد خلاف المعروف عن الرسول الخ ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و ھی إعتقاد إلخ ) ( إلی قولہ) و حینئذ فیساوی تعریف الشمنی لھا بأنھا ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبھۃ و استحسان و جعل دینا قویما و صراطا مستقیما الخ ( باب الإمامۃ، مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام، ج: 1، ص: 560، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: وضع الورد و الریاحین علی القبور حسن و إن تصدق بقیمۃ الورد کان أحسن کذا فی الغرائب الخ ( الباب السادس فی زیارۃ القبور ج: 5،ص: 351، ط: ماجدیۃ )۔
و فی اختلاف امت و صراط مستقیم: " شریعت کی اصطلاح میں سنت اس طریقہ کو کہا جاتا ہے جو دین میں ابتداء سے چلا آرہا ہو ، پس جو عمل حضرت ﷺ کا معمول چلا آ رہا ہو وہ سنت ہے ، اسی طرح حضرات خلفائے راشدین صحابہ و تابعین ( رضوان اللہ علیھم اجمعین ) نے جو عمل کیا ہے وہ بھی سنت ہی کے ذیل میں آتا ہے ، کسی عمل کے بارے میں یہ معلوم کرنا کہ یہ سنت ہے یا نہیں اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آیا یہ عمل خیر القرون میں رائج تھا یا نہیں ؟ جو عمل صدرِ اول ( یعنی آنحضرتﷺ اور صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بابرکت زمانوں ) میں رائج ہو وہ بلا شبہ سنت ہے ، اس پر عمل کرنے والے ”اہل سنت یا سنی“ کہلاتے ہیں ، اور جو ان کے بابرکت زمانوں کے بعد ایجاد ہوا ہو اس کو بذاتِ خود مقصد اور کارِ ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے ، جو لوگ اس پر عمل پیرا ہوں وہ ”اہل بدعت یا بدعتی “ کہلاتے ہیں آنحضرت ﷺ نے اپنے سینکڑوں لاڈلے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو دفن کیا ما شاء اللہ مدینہ طیبہ و مطہرہ میں پھولوں کی کمی نہیں تھی ، کیا آپ ﷺ نے کسی قبر پر پھول چڑھائے ہیں ؟ پھر آپﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین نے آپﷺ کے مزار پر پھول چڑھائے ہیں ؟ کیا صحابہ کرام نے حضرات خلفائے راشدین کی قبور طیبہ پر اور تابعین نے کسی قبر پر پھول چڑھائی ہیں ؟ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے الخ(اختلاف امت و صراط ِ مستقیم ص: 227، 288، ط: مکتبہ بینات )۔