احکام نماز

کیا لاحق شخص جماعت میں شریک شمار ہوگا؟

فتوی نمبر :
80537
| تاریخ :
2025-01-07
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا لاحق شخص جماعت میں شریک شمار ہوگا؟

مفتی صاحب! اگر امام کے ساتھ مقتدی تکبیرِ اولیٰ پالے، اور پھر دورانِ جماعت اس کا وضو ٹوٹ جائے، اور پھر دوبارہ الگ نماز پڑھےتو کیا اسے تکبیرِ اولیٰ کا ثواب ملے گا؟ اور چالیس دن مسلسل باجماعت نماز پڑھنے کا سلسلہ قائم رہے گا؟جس پر نفاق اور جہنم سے نجات کا وعدہ ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ جو شخص امام کے ساتھ ابتداءً، یعنی تکبیرِ اُولیٰ میں شریک ہو، لیکن کسی عذر کے باعث اقتداء کے بعد چند رکعات یا تمام رکعات فوت ہوجائیں، ایسا شخص لاحق کہلاتا ہے،فقہاء کرام نے لاحق کا حکم مقتدی ہی کا حکم قرار دیا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مقتدی تکبیرِ اُولیٰ سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہو، لیکن دورانِ نماز کسی عذر کی بنا پر اس کا وضو ٹوٹ جائے، تو اسے وضو کر کے وہ حصۂ نماز ادا کرنا لازم تھا جو امام کے ساتھ رہ گیا تھا، اگر وضو کے بعد جماعت ابھی جاری ہو تو وہ امام کے ساتھ دوبارہ شریک ہوجائے،لیکن بناءکے لیے شرط ہے کہ وضو ٹوٹتے ہی بغیر رکے فوراً جاکر وضو کرےوضو کےعلاوہ رکے نہیں، اور بات چیت بھی نہ کرے، وضو کرکے فورًا آجائے،البتہ اگر وضو کی تکمیل تک جماعت ختم ہو چکی تھی، تو مقتدی اگر چاہے توفوت شدہ رکعات کی بناء کرے،یعنی اپنی نماز وہاں سے شروع کرےجہاں تک وہ امام کے ساتھ نماز پڑھ چکا ہے، از سرِ نو نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، اور اگر مقتدی ایسا ہی کرتا ہے تو لاحق کہلاتا ہے، اور اس کی تکبیرِ تحریمہ برقرار سمجھی جائیگی، تاہم اگر اس نے بناء نہیں کی بلکہ نئی نیت کے ساتھ شروع سے پوری نماز ادا کی، تو ایسی صورت میں وہ لاحق نہیں کہلائے گا بلکہ منفرد شمار ہوگا،البتہ ایسا مقتدی چونکہ ایک طرح معذور ہے، لہذا جماعت اور تکبیر اولیٰ کے بارے میں اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے، کہ وہ اسے جماعت اور تکبیر اولیٰ کا ثواب عطاء فرمائیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داود : عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ من توضا فأحسن وضوءہ ثم راح فوجد الناس قد صلوا أعطاہ اللہ عزوجل مثل أجر من صلاھا وحضرھا لا ینقص ذالک من أجرھم شیئا الخ ( باب من خرج یرید الصلاۃ فسبق بھا، ج1، ص324، حدیث564، ط: بشری)۔
وفی الدر المختار: (و) اعلم أن (المدرک من صلاھا کاملۃ من الامام وللاحق من فاتتہ) الرکعات (کلھا أو بعضھا) لکن (بعد اقتدائہ) بعذر کغفلۃ وزحمۃ وسبق حدث وصلاۃ خوف ومقیم ائتم بمسافر وکذا بلا عذر بأن سبق إمامہ فی رکوع وسجود فإنہ یقضی رکعۃ وحکمہ کمؤتم فلا یأتی بقراءۃ ولا سہو ولا یتغیر فرضہ بنیۃ إقامۃ ویبدا بقضاء مافاتہ عکس المسبوق ثم یتابع إمامہ إن أمکنہ إدراکہ والا تابعہ الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ واعلم أن المدرک الخ) حاصلہ أن المقتدی أربعۃ اقسام مدرک، ولاحق فقط، ومسبوق فقط، ولاحق مسبوق، (الی قولہ) وأما فی النھر من تعریفہ المدرک بمن ادرک اول صلاۃ الامام فإنہ قد یکون لاحقا وعلیہ فقال المقتدی اما مدرک أو مسبوق وکل منھما اما لاحق أو لا واعلم ان التفرقۃ بین المدرک والاحق اصطلاحیۃ وفی اللغۃ یصدق کل منھما علی الآخر الخ (باب الامامۃ، ج1، ص594، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ : (اللاحق) وھو الذی ادرک اولھا وفاتہ الباقی لنوم او حدث او بقی قائما للزحام او الطائفۃ الاولی فی صلاۃ الخوف (الی قولہ) اللاحق اذا عاد بعد وضوء ینبغی لہ أن یشتتغل اولا بقضاء ما سبقہ الامام بغیر قراءۃ یقوم مقدار قیام الامام ورکوعہ وسجودہ ولو زاد او نقص فلا یضر ھکذا فی شرح الطحاوی الخ (الفصل السابع فی المسبوق والاحق، ج1، ص92، ط: ماجدیۃ)۔
وفی النتف فی الفتاوی : والثانی المؤتم إذا سبقہ الحدث فإنہ یرجع ویتوضأ ویرجع الی الامام ویبدأ بما قد سبقہ ویصلی حتی یدرک الامام الخ (مطلب صلاۃ المحدث، ج1،ص59، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80537کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات