احکام نماز

مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
80751
| تاریخ :
2025-01-19
عبادات / نماز / احکام نماز

مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنے کا حکم

ہم بازار کے لئے روانہ ہونے والے تھے اور خدشہ تھا کہ نمازِ عصر قضا ہوجائے گی، اسی لیے میں نے عصر کی نماز اس وقت ادا کرلی جب ایک دوسرے مسلک (غالباً اہلِ حدیث) کی مسجد سے پہلی اذان سنی، جو کہ احناف کے وقت سے پہلے نماز پڑھتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اپنی نماز دوبارہ ادا کرنی ہوگی؟ میری نیت یہ تھی کہ نماز قضا ہونے سے بچ جائے، اسی وجہ سے میں نے وقت سے پہلے ادا کی ،رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ فقہاء احناف رحمہم اللہ کے ہاں نمازِ عصر کے متعلق مفتی بہ قول یہ ہے کہ نماز عصر کا وقت مثلین (یعنی جب ہر چیز کا سایہ دوگناہ ہوجائے) سے شروع ہوتا ہے،لہذا اس میں نماز ادا کرنے کا اہتمام چاہیئے۔البتہ علماء احناف رحمہم اللہ کے ہاں ایک روایت مثل اول کے بعد عصر کا ابتدائی وقت شروع ہوجانے سے متعلق ملتی ہے، لہذا نماز کے قضاء ہوجانے کے خوف سے اس وقت میں اداکی گئی نماز کا سائل پر اعادہ لازم نہیں ،البتہ آئندہ کیلئے مثلین سے پہلے نمازِ عصر ادا کرنےسے احتیاط لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فیض الباری علی صحیح البخاری: فإذا حققت الروايات، فاعلم أن الناس جعلوها روايات شتى، وهي تنحط على محط واحد، ومرجع الكل عندي، أن المثل الأول وقت مختصر بالظهر، والمثل الثالث بالعصر، والثاني يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة بينهما في العمل، فإن عجل الظهر فصلاها بعد الزوال يعجل العصر ويصليها على المثل، وإن أخر الظهر فصلاها على المثل يصلي العصر أيضا مؤخرا إبقاء للفاصلة بينهما، فلا يؤخر الظهر مع تعجيل العصر، لأنه ربما يوجب الجمع مع أن المطلوب هو الفاصلة، نعم تلك الفاصلة قد ترتفع لأجل السفر والمرض، فللمسافر أن يجمع بين الظهر والعصر في المثل الثاني الخ ( کتاب مواقیت الصلاۃ، ج: 2، ص: 128، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)۔
وفی الدر: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى (سوى فيء)الخ
وفی الشامیۃ: تحت: قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل الخ۔
وفی المبسوط للسرخسی: واختلفوا في آخر وقت الظهر فعندهما إذا صار ظل كل شيء مثله خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر ‌وهو ‌رواية ‌محمد عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى وإن لم يذكره في الكتاب نصا في خروج وقت الظهر الخ۔ باب مواقیت الصلاۃ، ج: 1، ص: 142، ط: مطبعۃ السعادۃ)۔
وفی فتاوی محمودیۃ: اگرمثلین میں جماعت عصر ہوئی تو بالإتفاق اس کا اعادہ نہیں، اذان کچھ پہلے ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے جماعت کا اعادہ لازم نہیں ہوتا مثلین سے کچھ پہلے مثل واحد کے بعد جو جماعت ہوجائے اس کابھی ایک قول پر اعادہ نہیں، علماء احناف حرمین شریفین میں پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ نہیں کرتے جوکہ بالیقین مثلین سے پہلے ہوتی ہے ( باب المواقیت، ج: 5، ص: 341 ط: ادارہ الفاروق کراچی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80751کی تصدیق کریں
0     653
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات