کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماء عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چاول دوکاندار کو دیے ، دوکاندار نے گودام میں جا کر چاول دیکھے وہ چاول سستے دام دے رہے تھے، اور اس دوکاندار سے لالچ میں آ کر وہ چاول خرید لیے، یہ دونوں شخص ایک جگہ پر رہتے ہیں، ان دونوں کی ایک دوسرے سے واقفیت ہے دوکاندار کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ شخص چاول کا کاروبار نہیں کرتا،خریدے ہوئے چاول مہنگے داموں بیچے بھی ہیں۔ اس کے بعد پتہ چلا اور چاول چوری کے نکلے ،اور وہ شخص گرفتار ہوا تو اس دوکاندار کو پتہ چلا , تو دوکاندار نے اس شخص کو چھڑانے کے لئے ۵۰۰۰۰ ہزار روپیہ دیے ، اس کے باوجود بھی پولیس دوکاندار کو اُٹھا کر لے گئی ،اور خریدا ہوا چاول بھی ساتھ لے کر چلے گئے ،دوکاندار اس شخص کے والد سے ان پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جن کے چاول خریدے تھے، اور اس کے والد صاحب کا کہنا ہے کہ کیا چاول خریدتے وقت ہم سے آپ نے پوچھ کر خریدے تھے؟ اور اس کے والد صاحب بھی ایک غریب اور مزدور پیشہ آدمی ہیں ،شریعت کی رو سے کیا اس دوکاندار کا مطالبہ اُن کے والد صاحب سے درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو کس طریقے سے ادا کر سکتا ہے؟
جب والد نے بوقتِ خریداری یا بعد میں کسی قسم کی ضمانت نہیں لی تھی، تو دوکاندار کا اس سے مطالبہ بھی درست نہیں، اسے اپنے مذکور باطل دعویٰ سے احتراز لازم ہے۔ البتہ متعلقہ شخص سے مطالبہ کر سکتا ہے، جو چاول چوری کرنے والے سے رقم لیکر خریدار کو دینے کا پابند ہوگا۔
ففي الدر المختار: لو استهلكه المشتري منه أو الموهوب له فللمالك تضمينه اھ(4/ 111)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله فللمالك تضمينه) أي تضمين المشتري أو الموهوب له ثم يرجع المشتري على السارق بالثمن لا بالقيمة (إلی قوله) لو أودعه فهلك، بخلاف الاستهلاك فإن المستهلك متعد فلا رجوع له على السارق أصلا بلا فرق بين كونه مشتريا أو مودعا أو مستأجرا، نعم للمشتري الرجوع بالثمن على السارق؛ لأنه لما استهلكه وضمن قيمته ملكه من وقت الاستهلاك فيرجع على السارق بما دفعه إليه من الثمن لا بالقيمة لظهور أن ما دفعه إليه لا يملك قبضه اھ (4/ 111)۔
وفي الفتاوى الهندية: ويشير في التسليم أن يكون المبيع مفرزا غير مشغول بحق غيره اھ (3/ 16)۔
وفي الفتاوى الهندية: رجل اشترى سمنا ودفع إلى البائع ظرفا وأمره بأن يزن فيه وفي الظرف خرق لا يعلم به المشتري والبائع يعلم به فتلف كان التلف على البائع ولا شيء له على المشتري اھ (3/ 19)۔
وفي حاشية ابن عابدين: ولو مات عنده قبل أن يرده وقضى على البائع بنقصان العيب كان للمشتري أن يرجع على الضامن اھ (5/ 48)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0