کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین درایں مسئلہ کہ بندہ کفیل احمد کا جنریٹرز مرمت کرنے کا کام ہے، اور مختلف کمپنیوں اور گھروں میں جنریٹر خراب ہونے کی صورت میں ان کی مرمت کرنا اور خراب جنریٹر خریدنے وغیرہ کا کام ہے، مجھے کچھ بینکوں کی طرف سے میرے متعلقہ کام کا بڑا آڈر مل رہا ہے، اور نفع بھی بہت اچھا ہے،بندہ پوچھنا چاہتا ہےکہ بینکوں وغیرہ کے ساتھ اس طرح کام کرنا اور نفع کمانا شرعاً حلال ہے یا حرام ؟
بینکوں کے خراب جنریٹر کی مرمت کرنا شرعاً جائز ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. (5/ 235)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0