محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! میں اپنے کاروبار کے لیے Tabby اور Tamara کے شرعی حکم کے بارے میں استفسار کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ ہم بطور مرچنٹ کام کرتے ہیں اور اپنے صارفین کو مختلف مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ حال ہی میں، ہم نے ان "ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں" خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ دیکھی ہے۔ یہاں یہ ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے: گاہک کی خریداری: ایک گاہک ہمارے اسٹور سے مصنوعات کا انتخاب کرتا ہے اور Tabby یا Tamara کے ذریعے ادائیگی
کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ مرچنٹ کی ادائیگی: Tamara/Tabby فوری طور پر ہمیں گاہک کی خریداری کے لیے پوری رقم ادا کرتا ہے۔ گاہک کی واپسی: اس کے بعد صارف ایک مقررہ مدت میں چار قسطوں میں Tamara/Tabby کی ادائیگی کرتا ہے۔ میرا سوال اس لین دین میں بطور تاجر ہماری شمولیت کی اجازت سے متعلق ہے۔ ہمیں Tamara/Tabby سے مکمل ادائیگی پہلے سے موصول ہوتی ہے، اور گاہک کے ساتھ ہمارا لین دین بنیادی طور پر اس وقت مکمل ہوتا ہے۔ ہم گاہک اور Tamara/Tabby کے درمیان بعد کے انتظامات کے بارے میں فکر مند ہیں، خاص طور پر کسی ممکنہ سود یا تاخیر سے ادائیگی کی فیس کے بارے میں جو اس میں شامل ہو سکتی ہے۔ کیا ان کے اور گاہک کے درمیان ممکنہ مالیاتی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے Tamara/Tabby سے ہماری ادائیگی کی قبولیت جائز ہے؟ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے کاروباری طریقے اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور گاہک کا معاملہ بوقتِ خرید مکمل ہو جاتا ہو، اور سائل کو Tabby یا Tamara کی طرف سےگاہک کی خریدی ہوئی اشیاءکی فوراً پوری رقم مل جاتی ہو، سائل کمپنی اور گاہک کے درمیان بعد کے معاملات میں فریق نہ بنتا ہوتواس مرحلے تک چونکہ سائل کا لین دین نقد بیع ہے، جس میں کسی قسم کاسودیاشرعی قباحت موجودنہیں ۔ لہذاسائل کا Tabby/Tamara کے ساتھ بطور مرچنٹ کام کرنا اور ان سے پوری قیمت وصول کرنا جائزاوردرست ہے ۔
تاہم گاہک جب قسطوں میں ادائیگی کرتا ہے تو یہ معاملہ اس کےاور کمپنی کے درمیان بیعِ تقسیط کے مشابہ ایک الگ مالی معاہدہ بن جاتاہے۔جس کاحکم ِشرعی اس معاہدہ کے مندرجات کابغورمطالعہ اورشرعی تجزیہ کرنے کے بعدہی دیاجاسکتاہے ،اگرسائل اس متعلق شرعی حکم جاننا چاہتاہوتو اس معاہدہ کی تمام دستاویزات کی نقول کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردے ،تواس پرغوروخوض کے بعداس کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیاجائیگا ۔
کما فی مجلة الأحكام العدلية: (المادة 157) التقسيط تأجيل أداء الدين مفرقا إلى أوقات متعددة معينة اھ(المقدمة: في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، ص: 33، ناشر نور محمد کراچی)-
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (المادة 157) التقسيط تأجيل أداء الدين مفرقا إلى أوقات متعددة معينة. هذا التعريف هو تعريف التقسيط الشرعي وأما تعريفه اللغوي: فهو تجزئة الشيء إلى أجزاء وذلك كتأجيل دين بخمسمائة قرش إلى خمسة أسابيع على أن يدفع منه مائة قرش كل أسبوع. فعلى ذلك يفهم بأن في كل تقسيط يوجد تأجيل وليس في كل تأجيل يوجد تقسيط.وأنه بناء على ذلك يوجد بين التأجيل والتقسيط عموم وخصوص مطلق والتقسيط هو المطلق الأخص منهما اھ(ج:1، ص: 128، ناشر: دار الجیل)-
وفیہ أیضاً: الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها اھ (المادة: 153، ج:1، ص: 124، ناشر: دار الجیل)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0