مباحات

کمپنی کی طرف سےمفت ملنے والے پیٹرول کواپنے دوست کو دینے کا حکم

فتوی نمبر :
816
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کمپنی کی طرف سےمفت ملنے والے پیٹرول کواپنے دوست کو دینے کا حکم

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے جو کراچی الیکٹرک میں کام کرتا ہے، اُس کو پٹرول فری ملتا ہے،مگر اس کے پاس موٹر سائیکل نہیں ہے، میرے پاس موٹر سائیکل ہے، وہ مجھ سے کہتا ہے کہ موٹر سائیکل دیدے کہ میں اس میں پٹرول ڈلوا دوں، کیا میرے لیے یہ جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں متعلقہ کمپنی کی طرف سے یہ سہولت اگر شخص مذکور کے دفتری اور گھریلو امور میں معاونت اور سہولت فراہم کرنے کے اعتبار سے ہو اور وہ سائل کی موٹر سائیکل استعمال بھی کرتا ہو اور متعلقہ ادارے کے علم میں آنے کے باوجود متعلقہ مجاز افسران کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو تو اس طرح سائل کے لیے بھی اس کا استعمال بلاشبہ جائز اور درست ہو گا ، ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889) والله أعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اورنگزیب دوست محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 816کی تصدیق کریں
0     207
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات