عشاء کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد کیا میں گھر پر ہی جماعت کے ساتھ فرض نماز ادا کرسکتاہوں تاکہ اس کے بعد گھر پر ہی تراویح کی نماز ادا کرلوں ؟یا میں فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے مسجد جاؤں اور بعد میں تراویح گھر پر ادا کروں؟
واضح ہو کہ مردوں کے لئے فرض نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنا سنت موکدہ قریب بواجب ہے، اور احادیث مبارکہ میں بلاعذر اس کی ترک کرنے پر وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں آتاہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں چاہتاہوں کہ چند نوجوانوں سے کہوں کہ وہ ایندھن اکٹھا کرکے لائیں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جاوٴں جو بلاعذر گھروں میں نماز پڑھتے ہیں ، ان کے گھروں کو جلادوں، اس لئے بلاعذر شرعی مسجد کی جماعت ترک کرنا جائز نہیں،لہذاسائل کا محض جلدی کی خاطر مسجد کی جماعت میں شرکت کے بجائے گھر پر ہی جماعت کا اہتمام کرنا تو جائز نہیں بلکہ اسے فرض نماز کے ساتھ ساتھ تراویح کی نماز بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام چاہیئے، تاہم اگر سائل نماز تراویح میں اپنی منزل سنانے یا سننے کی غرض سے گھر پر ہی اس کی ادائیگی کررہاہو، تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔
کما فی سنن ابی داؤد: "يزيد بن الأصم قال:سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "لقد هممت أن آمر فتيتي فيجمعوا حزمًا من حطب، ثم آتي قومًا يصلون في بيوتهم ليست بهم علة فأحرقها عليهم". (باب التشديد في ترك الجماعة 1/ 411 ط. دار الرسالة العالمية)
وفی الجوهرة النيرة: (قوله: والجماعة سنة مؤكدة) أي: قريبة من الواجب. وفي التحفة واجبة لقوله تعالى {واركعوا مع الراكعين} [البقرة: 43]، وهذا يدل على وجوبها، وإنما قلنا إنها سنة لقوله - عليه السلام - «الجماعة من سنن الهدى لايتخلف عنها إلا منافق» وقال - عليه السلام - «ما من ثلاثة في قرية لا يؤذن فيهم ولا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، عليك بالجماعة فإنما يأخذ الذئب الفارة» استحوذ أي: استولى عليهم وتمكن منهم، وإذا ثبت أنها سنة مؤكدة فإنها تسقط في حال العذرز(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة ،1/ 59، ط. المطبعة الخيرية)
وفی الفتاوى الهندية:وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة. كذا في التبيين، وتسقط بالريح في الليلة المظلمة وأما بالنهار فليست الريح عذرا وكذا إذا كان يدافع الأخبثين أو أحدهما أو كان إذا خرج يخاف أن يحبسه غريمه في الدين أو يريد سفرا وأقيمت الصلاة فيخشى أن تفوته القافلة أو كان قيما لمريض أو يخاف ضياع ماله وكذا إذا حضر العشاء وأقيمت صلاته ونفسه تتوق إليه، وكذا إذا حضر الطعام في غير وقت العشاء ونفسه تتوق إليه. كذا في السراج الوهاج.(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، 4/ 83، ط. رشيديه)