کرسی پر بیٹھ کر باجماعت نماز پڑھنے کا مکمل طریقہ بالتفصیل بتائیں؟ نیز 4 تولا سونے کی زکوٰۃ 5 جنوری 2025 کے حساب سے نقد میں بتائیں؟
واضح ہو کہ بلا کسی عذر کے کرسی پر بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا جائز نہیں البتہ اگر کوئی عذر ہو جیسے کہ رکوع اور قیام پر قدرت نہ ہو، اسی طرح زمین پر سر ٹکاکر سجدہ کرنے کی استطاعت بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں کرسی کے بجائے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، بلا کسی عذر اور مجبوری کے نماز کیلئے کرسی کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے البتہ عذر کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ صف کے اطراف میں کرسی اس طرح رکھی جائے کہ کرسی کے پچھلے پائے صف کے کنارے پر وہاں آئیں جہاں صف سیدھی کرنے کیلئے ایڑیاں رکھی جاتی ہیں، مجبوری کی صورت میں کرسی پر نماز پڑھنے کے دوران کندھے سے کندھا ملانا یا پا ؤں کے ساتھ پاؤں برابر کرنا یا قیام کرنا کوئی لازم نہیں۔
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو چاہیئے کہ وہ صف کی ایک طرف کرسی رکھیں، تاکہ بیچ میں کرسی رکھنے سے دیگر نمازیوں کو تکلیف نہ ہو ، چنانچہ کرسی میں بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو اگر یہ غالب گمان ہو کہ یہاں تک صفیں بن جائیں گی، تو بیچ میں کرسی رکھنے کے بجائے ایک طرف اپنی کرسی رکھے۔
جبکہ سائل کی ملکیت میں مذکور چار تولہ سونے کے ساتھ اگر تھوڑی ، بہت نقدی بھی موجود ہو (جیسا کہ عموماً ہو تا ہے ) اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، تو ایسی صور ت میں سائل پر موجود سونے کی مارکیٹ ویلیو لگا کر مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ نکالنا لازم ہوگا، اور ادائیگی زکوۃ میں چونکہ سونے کی اس دن کی قیمت معتبر ہوتی ہے جس دن اس کی ادائیگی کی جاتی ہے، اس لئے ادائیگی زکوۃ کے وقت سائل اس کی مارکیٹ ریٹ معلوم کر کے اس کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کر دے۔
کما فی الدر المختار: (من تعذر علیہ القیام) أی کلہ (لمرض) (الی قولہ) (صلی قاعدا) ولو مستندا إلی وسادۃ أو إنسان فإنہ یلزمہ ذلک علی المختار (کیف شاء) علی المذہب لأن المرض أسقط عنہ الأرکان فالہیئات اولی۔ الخ (باب صلاۃ المریض، ج: 2، ص: 95-96، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع الخ (باب صلاۃ المریض، ج: 2، ص: 97، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: قال في المعراج: الأفضل أن يقف في الصف الآخر إذا خاف إيذاء أحد. قال عليه الصلاة والسلام «من ترك الصف الأول مخافة أن يؤذي مسلما أضعف له أجر الصف الأول» وبه أخذ أبو حنيفة ومحمد الخ (باب الامامۃ، ج: 1، ص: 569، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: ( نصاب الذھب عشرون مثقالاً و الفضۃ مائتا درھم کل عشرۃ) دراھم ( وزن سبعۃ مثاقیل ) الخ (کتاب الزکات، ج: 2، ص: 298، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي.الخ (کتاب الزکات، ج: 1، ص: 179، ط: ماجدیۃ)۔