احکام نماز

عورت کا نماز میں امام بننا

فتوی نمبر :
81852
| تاریخ :
2025-03-06
عبادات / نماز / احکام نماز

عورت کا نماز میں امام بننا

کیا عورت گھر میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھا سکتی ہے؟ اور وہ بھی صرف اور صرف عورتوں کو
یا فرض نماز پڑھا سکتی ہے جماعت کے ساتھ گھر میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فقہاء احناف ۔رحمہم الله ۔نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں تنہا عورتوں کی جماعت کو مکروہ قرار دیا ہے ،لہذا عورتوں کے لئے خواہ فرض نماز ہو یا تروایح ،جماعت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے اس لیے خواتین کو باجماعت نماز ادا کرنے کے بجائے انفرادی طور پر نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے ،البتہ اگر کوئی حافظہ عورت ہو اور اس کے لیے تروایح میں قرآن سنائے بغیر یاد رکھنا مشکل ہو تو باقاعدہ اہتمام(تداعی) کے بغیر اگر وہ گھر میں ایک دو خواتین کو تروایح کی جماعت کرائےتو اہل علم نے اس کی گنجائش دی ہے،تاہم اس صورت میں بھی امامت کرانے والی خاتون کے لیے باقاعدہ مرد امام کی طرح صف کے آگے کھڑے ہونے کے بجائے صف کے درمیان میں ہی کھڑی ہونا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایہ:ويكره للنساء أن يصلين وحدهن الجماعة " لأنها لا تخلو عن ارتكاب محرم وهو قيام الإمام وسط الصف فيكره كالعراة " فإن فعلن قامت الإمام وسطهن " لأن عائشة رضي الله عنها فعلت كذلك وحمل فعلها الجماعة على ابتداء الإسلام ولأن في التقدم زيادة الكشف "(ج:1،ص:57)
و فی البدائع:وكذا المرأة تصلح للإمامة في الجملة، حتى لو أمت النساء جاز، وينبغي أن تقوم وسطهن لما روي عن عائشة - رضي الله عنها - أنها أمت نسوة في صلاة العصر وقامت وسطهن وأمت أم سلمة نساء وقامت وسطهن؛ ولأن مبنى حالهن على الستر وهذا أستر لها، إلا أن جماعتهن مكروهة عندنا، وعند الشافعي مستحبة كجماعة الرجال، ويروى في ذلك أحاديث لكن تلك كانت في ابتداء الإسلام ثم نسخت بعد ذلك. (ج:1،ص:157)
و فی الدر المختار:(و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح الخ (ج:1،ص:565)
و فی الھندیۃ:ويكره إمامة المرأة للنساء في الصلوات كلها من الفرائض والنوافل إلا في صلاة الجنازة. هكذا في النهاية فإن فعلن وقفت الإمام وسطهن وبقيامها وسطهن لا تزول الكراهة وإن تقدمت عليهن إمامهن لم تفسد صلاتهن. هكذا في الجوهرة النيرة وصلاتهن فرادى أفضل هكذا في الخلاصة. (ج:1،ص:85)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81852کی تصدیق کریں
0     600
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات