السلام علیکم! براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ قضاء نماز کس ترتیب پر ادا کی جائے؟ مثلاً اگر کسی کی فجر قضاء ہوگئی، پھر اسے ظہر کی نماز پہلے ادا کرنا چاہیے یا فجر کی قضاء پہلے کرے، اسی طرح گزشتہ زمانے کی قضاء نمازوں کی ادائیگی کس طرح کی جائے؟ کیا قضاء نمازیں اس وقت کی فرض نماز کی ادائیگی مکمل کرنے کے بعد پڑھی جا سکتی ہیں؟ اگر کوئی ہر نماز کے ساتھ قضاء عمری کی نماز بھی ادا کرنا چاہے تو کیسا ہے؟
جس کی فجر نماز قضاء ہوئی ہو اس کو چاہیے کہ نیند سے بیدار ہوتے ہی اس کی قضاء کرے اگر کسی وجہ سے ظہر سے پہلے نہ پڑھ سکے تو بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ صاحبِ ترتیب نہ ہو، جبکہ قضاء عمری پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونےکے بعد جتنی نمازیں قضاء ہوئی ہوں ان سب کا حساب لگا کر ہر ادا نماز کے ساتھ ایک دو قضاء نمازیں بھی پڑھ لیا کرے اور نیت اس طرح کرے کہ مثلاً ظہر کی قضاء شدہ نمازوں میں سے پہلی نماز پڑھ رہا ہوں، اسی طرح دوسری نمازوں میں بھی یہ نیت کرے اور ہر مرتبہ اسی طرح نیت کرے، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ ایک کاپی میں جتنی نمازوں کی قضاء پڑھ چکا ہے اور جتنی باقی ہیں وہ لکھتارہے تاکہ قضاء عمری مکمل ہونے سے قبل موت آجائے تو بقیہ نمازوں کا فدیہ ادا کیا جا سکے اور اُسے چاہیے کہ اس کی وصیت بھی کرے۔
ففی الدر المختار: كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره، (2/ 76)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين اھ (2/ 76)
وفی البحر: والقضاء فرض فی فرض، واجب فی الواجب، سنة فی السنة، ثم لیس للقضاء وقت معین بل جمیع أوقاة العمر وقت له إلا ثلاثة وقت طلوع الشمس اھ (۲/ ۸۰)