احکام نماز

عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کو لازم کرنا

فتوی نمبر :
82183
| تاریخ :
2025-04-20
عبادات / نماز / احکام نماز

عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کو لازم کرنا

بحكم افسرِ پولیس عصر كی نماز مثل اول كے بعد پڑھوانے كے متعلق استفتاء، السلام علیكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ!امید ہے جامعہ كے تمام مفتیان كرام واساتذہ كرام بخیر وعافیت ہوں گے۔حضرات مفتیان كرام سے نماز كے متعلق درج ذیل صورت مسئلہ كے متعلق فتوى دركار ہے ! پولیس كے ایك ادارے میں مثل اول پر اہلكاروں كی چھٹی ہو جاتی ہے، جن میں كئی اہلكار دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں، كچھ مغرب سے پہلے، تو كچھ مغرب كے بعد پہنچتے ہیں، چنانچہ ادارے كے افسر نے (اس غرض سے كہ راستے میں كوئی بھی نماز نہیں پڑھتا، یہاں سب نماز پڑھ لیں گے) یہ حكم جاری كیا ہے كہ سارے اہلكار مثل اول كے بعد چھٹی ہوتے ہی عصر كی نماز ادا كریں گے، كسی كو استثناء حاصل نہیں ہوگا، جبكہ مفتى بہ قول كے مطابق عصر كی نماز مثلین كے بعد ہی درست ہوتی ہے۔مذكورہ صورت میں:(۱) اہلكاروں كے لیے مثل اول كے بعد نماز پڑھنے كا كیا حكم ہے، ان كی نماز درست ہو جائے گی یا نہیں؟(۲) ادارے كے افسر كے لیے مذكورہ حكمت كی بناء پر اس اقدام كی گنجائش ہے یا نہیں؟ حضرات مفتیان كرام شافی جواب عنایت فرماكر عند اللہ ماجور ہوں، شكریہ، جزاكم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عند الاحناف راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق عصر کی نماز کا وقت چونکہ مثلین سے شروع ہوتا ہے اس لیے عام حالت میں نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے عصر کی نماز ادا کرنا جائز نہیں، البتہ اگر مثلِ ثانی سے پہلے سفر پر نکلنا ہو اور کسی شخص کو قوی اندیشہ ہو کہ منزل پر پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور پہنچتے پہنچتے عصر کی نماز کا وقت نکل جائے گا اور درمیان میں عصر ادا کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ،تو پھر صاحبین کے قول کے مطابق مثلِ اول ہونے کے بعد مثلِ ثانی سے پہلے عصر پڑھ کر سفر میں نکلنے کی گنجائش ہوگی، مگر اس کا معمول بنا لینا تب بھی درست نہیں، بلکہ پیش آنے والی مشکل و مشقت کا کوئی حل تجویز کرنا چاہیے، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور ادارے کے اہلکار کو چاہیے کہ عصر کا وقت داخل ہونے کے بعد راستہ میں عصر کی نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں، اور اس سلسلہ میں محض کوتاہی اور سستی کی وجہ سے اہلکاروں کا وقت پر نماز ادا نہ لرنے کرنے کی بنا پر مذکور آفیسر کا تمام اہلکاروں کو عصر کی نماز مثل اول میں ادا کرنے کا پابند بنانا درست نہیں، البتہ ادارے میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایسی پالیسی ترتیب دینا ضروری ہے کہ جس میں اہلکاروں کو وقت پر نماز پڑھنے کا موقع میسر آسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) الخ۔(کتاب الصلاۃ، ج:1،ص:359،ط:سعید)۔
وفی فیض الباری: فتحصّل أنّه صلّى الظّهر تارةً في المثل وهو وقتها المختص وتارةً في المثل الثاني وهو الوقت الصّالح لها، وكذلك صلّى العصر تارةً بعد المثل الأوّل، وهو وقتٌ صالحٌ لها أيضًا، وصلاها تارةً بعد المثل الثاني قبل نهاية المثل الثالث، وهو الوقت المختص بها مع إبقاء الفاصلة بين الصّلاتين في اليومين، وهذا عين مذهبنا ولله الحمد أوّلا وآخرًا الخ۔(ج:2،ص:132،ط:دارالکتب العلمیۃ)۔
وفی رد المحتار: وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل. ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلا عن بعض الفتاوى أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض الخ۔(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:359،ط:دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية الخ۔ الخ۔(کتاب الصلاۃ، ج:1،ص:359،ط:سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسي: وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أنه لا يخرج وقت الظهر حتى يصير الظل قامتين الخ۔(ج:1،ص:142)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82183کی تصدیق کریں
0     332
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات