السلام علیکم! مفتی صاحب جب میری بیوی نماز ادا کرتی ہے ، سجدہ ادا کرنے سے پہلے وہ اپنے کولھوں پر بیٹھتی ہے اپنے دونوں پیروں کو دائیں طرف نکالتے ہوئے پھر سجدہ میں جاتی ہے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یا پھر اُسے پھر قومہ کے بعد سیدھا سجدہ میں جانا چاہیے بغیر بیٹھے؟
صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی کا مذکور طریقہ سے نماز ادا کرنا شرعاً درست اور استر ہے۔
ففی الدر المختار: (والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر، وحررنا في الخزائن أنها تخالف الرجل في خمسة وعشرين. (1/ 504)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وحررنا في الخزائن إلخ) (إلی قوله) وتنحني في الركوع قليلا، ولا تعقد ولا تفرج فيه أصابعها بل تضمها وتضع يديها على ركبتيها، ولا تحني ركبتيها، وتنضم في ركوعها وسجودها، وتفترش ذراعيها، وتتورك في التشهد اھ (1/ 504)