"آپ شرک کرتے ہیں یہاں تک کہ کعبہ میں نماز ادا کرتے ہوئے حطیم میں قبور ہیں ۔ جن کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ایسا ہی مقام ابراہیم اور زمزم میں ہے، لیکن آپ دوسروں پر شرک کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ وہ سجدہ نہیں کرتے آپ کی طرح"
ان باتوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری معلومات کے مطابق مذکور مقامات پر ایسا کوئی مقبرہ وغیرہ نہیں جسے سجدہ کرنے سے شرک لازم آتا ہو، اور اس جگہ قبور کا ہونا ثابت ہو جائے تب بھی کسی زمانہ میں وہاں قبر ہونے سے شرک لازم نہیں آتا کیونکہ حطیم بیت اللہ شریف کا ہی حصہ ہے، اور مقامِ ابراہیم پر نماز دو گا نہ پڑھنے کا حکم خود رب کائنات نے دیا ہے، اور یہ ان مقامات کی عظمت کی بناء پر ہے۔ جبکہ زم زم متبرّک و محترم ہونے کے ساتھ ساتھ بحکمِ الہی کئی ایک بیماریوں کے لئے شافی بھی ہے ، اس لئے کسی کا بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنا اور ان امور کو موردِ طعن ٹھہرا کر اس پر شرک کا اطلاق کرنا قطعاً غلط اور نا جائز ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی(البقرۃ: 125)۔
وفی معجم الکبیر للطبرانی: عن ابن عباس۔رضی اللہ عنھما۔قال: قال رسول اللہ ﷺ((خیر ماء علیٰ وجہ الارض ماء زمزم،فیہ طعام من الطعم وشفاء من السقم اھ(11/81)۔