احکام نماز

بلا عذر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
82811
| تاریخ :
2025-05-17
عبادات / نماز / احکام نماز

بلا عذر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم

السلام علیکم! مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ جب ایک صحت مند شخص نفل اور سنت نماز کھڑے ہو کر، رکوع اور سجدہ کر کے ادا کرتا ہے اور دوسری رکعت کے لیے پھر کھڑا ہوتا ہے اور اپنی نماز اسی طرح مکمل کرتا ہے، جیسے ہم جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن جب فرض نماز شروع ہوتی ہے تو وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو ایسی صورت میں فرض نماز کا کیا حکم ہوگا جو کرسی پر ادا کی جائے؟ برائے کرم ہماری رہنمائی فرمائیں کیونکہ مسجد میں بہت سے لوگ فجر کی فرض نماز کرسی پر بیٹھ کر ادا کرتے ہیں ،لیکن پھر سنت اور نفل بغیر کرسی کے پڑھتے ہیں۔ جزاک اللہ خیراً !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو شخص قیام، رکوع اور سجدے پر قادر ہو، تو اس کےلئے فرض نماز میں قیام (کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا) لازم اور ضروری ہے، اور اگر وہ قدرت کے باوجود فرض نماز میں کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، تو شرعاً اس کی نماز درست ادا نہ ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں صحت مند شخص جو نفل اور سنت نماز کھڑے ہو کر پڑھ سکتا ہو (یعنی وہ قیام، رکوع اور سجدے پر قادر ہو)، تو بغیر کسی عذر کے اس کے لئے فرض نماز کرسی پر بیٹھ کر ادا کرنا جائز نہیں، اگر پڑھے گا تو نماز درست نہیں ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (من فرائضها) التي لا تصح بدونها(ومنها القيام) بحيث لو مد يديه لا ينال ركبتيه(في فرض) وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح (لقادر عليه) وعلى السجود(إلى قوله) ولو أضعفه عن القيام الخروج لجماعة صلى في بيته قائماً به يفتى خلافاً للاشباه الخ
وفي رد المحتارتحت قوله(به يفتى): وجهه أن القيام فرض بخلاف الجماعة، وبه قال مالك والشافعي وهو أنه يشرع مع الإمام قائما ثم يقعد فاذا جاء وقت الركوع يقوم ويركع أي إن قدرقال في الحلية: ولعله أشبه لأن القيام فرض فلايجوز تركه للجماعة التي هي سنة بل يعد عذراً في تركها الخ(ج:1،باب صفةالصلاة،ص:442،43،45،46،مط: سعید کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82811کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات