احکام نماز

موزوں پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
83016
| تاریخ :
2025-05-25
عبادات / نماز / احکام نماز

موزوں پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

محترم مفتیانِ کرام،

امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔

میں ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں:

میری رہائش اس وقت کویت میں ہے، جہاں زیادہ تر لوگ امام شافعیؒ یا امام مالکؒ کے فقہی مسلک کی پیروی کرتے ہیں۔ جبکہ میں پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں اور امام ابو حنیفہؒ کے مسلک پر عمل کرتا ہوں۔

یہاں اکثر مساجد میں لوگ موزوں (جرابوں) پر مسح کر کے نماز ادا کرتے ہیں، حتیٰ کہ امام بھی۔ جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں، ہمارے حنفی مسلک میں عام سوتی یا نازک جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، جب تک وہ شرعی طور پر “موٹے چمڑے یا چمڑے جیسے” موزے نہ ہوں۔

میرا سوال یہ ہے کہ:
1. اگر امام نے ایسے موزوں پر مسح کیا ہو جو ہمارے مسلک کے مطابق مسح کے قابل نہیں (یعنی عام سوتی یا ہلکے جرابیں)، تو کیا ایسی حالت میں اس کے پیچھے میری نماز درست ہو جائے گی؟
2. کیا میں جماعت سے پیچھے ہٹ جاؤں؟ جبکہ میں ہر نماز سے پہلے امام کے موزے چیک نہیں کر سکتا۔
3. اگر میں محض شک یا اندیشے کی بنیاد پر ان کے پیچھے نماز نہ پڑھوں تو میرے لیے مسلسل باجماعت نمازیں قضا ہونے کا خطرہ ہے، کیونکہ یہاں تقریباً تمام مساجد کے ائمہ غیر حنفی فقہ پر عمل کرتے ہیں۔
4. ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا میں ان کے پیچھے اطمینان سے نماز پڑھ سکتا ہوں، یا مجھے کسی خاص احتیاط کی ضرورت ہے؟

براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرما دیں اور رہنمائی فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ احناف کے ہاں عام سوتی اور اونی جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں، چنانچہ جو شخص ایسی جرابوں پر مسح کرےتو احناف کے ہاں اس کا وضو درست نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں اس کی نماز بھی درست نہ ہوگی۔ لہذا سائل کو اگر کسی امام کے متعلق یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ عام سوتی جرابوں پر مسح کر کے جماعت کرا رہا ہےتو ایسی صورت میں سائل کو اس امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے بجائے کسی دوسرے امام کی اقتدا میں یا انفرادی نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کسی امام کے متعلق سائل کو یقین یا غالب گمان نہ ہو تو محض شک کی وجہ سے جماعت کی نماز ترک کرنا درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الإسلامي وأدلته :المسح على الجوارب: اتفق الفقهاء على جواز المسح على الجوربين إذا كانا مجلَّدين أو منعلين، واختلفوا في الجوربين العاديين على اتجاهين:اتجاه يمثله جماعة: وهم أبو حنيفة والمالكية والشافعية: لايجوز، واتجاه آخر يمثله الحنابلة، والصاحبان من الحنفية وعلى رأيهما الفتوى: يجوز.وهذه آراء المذاهب:قال أبو حنيفة: لايجوز المسح على الجوربين، إلا أن يكونا مجلَّدين أو منعلين، لأن الجورب ليس في معنى الخف؛ لأنه لايمكن مواظبة المشي فيه، إلا إذا كان منعلاً، وهو محمل الحديث المجيز للمسح على الجورب.اھ(باب المسح على الجوارب،ج:1،ص:497،ط:دار الفكر)
و فيه ايضا: وظاهر كلام شرح المنية ايضا حيث قال: واما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الاجماع، انما اختلف في الكراهة. اه فقيد بالمفسد دون غيره كما ترى. وفي رسالة الاهتداء في الاقتداء لملا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا الى الجواز اذا كان يحتاط في موضع الخلاف والا فلا. اھ(باب الامامة، ج: 1، ص: 563، ط: دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:والاقتداء بشافعي المذهب إنما يصح إذا كان الإمام يتجامي مواضع الخلاف بأن يتوضأ من الخارج النجس من غير السبيلين كالفصد وأن لا ينحرف عن القبلة انحرافا فاحشاء هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر اهـ۔(الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره، 1 ج: ص: ۸۴، ط: دار الفكر) -
وفي الدر المختار: وكذا تكره خلف أمرد (إلى قوله ) ومخالف كشافعي، لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره اد (ج:۱، ص: ۵۶۳، ط: سعید)
وفي معراج الدراية في شرح الهداي:وفي المحيط: لو صلى خلف فاسق أو مبتدع؛ يكون محرزا ثواب الجماعة؛ لقوله «صلوا خلف كل بر وفاجر »، أما لا ينال ثواب من يصلي خلف التقي.ثم الفاسق إذا كان يؤم وعجز القوم عن منعه تكلموا فيه.قيل: يقتدي به في صلاة الجمعة، ولا يترك الجمعة بإمامته، أما في غيرها من المكتوبات؛ فلا بأس بأن يتحول إلى مسجد آخر، ولا يصلي خلفه، ولا يأثم بذلك.وفي المجتبى ، والمبسوط: يكره الاقتداء بصاحب البدعة.(باب الإمامة،ج:1،ص:779،ط:دار الكتب العلمية)
و فی مجموع فتاوى ابن تيمية:نعم يجوز المسح على الجوربين إذا كان يمشي فيهما سواء كانت مجلدة أو لم تكن .(باب المسح على الخفین،ج:21،ص:214)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83016کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات