والدہ کا انڈیا میں انتقال ہو گیا جو کہ وہی کی رہائشی تھیں ، ان کی بیٹی پاکستان میں رہتی ہیں ، اب وہ اپنی والدہ کی چھوٹی ہوئی نماز کا فدیہ دینا چا رہی ہیں تو وہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے دینگی یہ پھر ہندوستانی کرنسی کے حساب سے اور کتنا دینگی ۔
واضح ہوکہ فوت شدہ نماز و روزوں کے بدلے بطور فدیہ دیئے جانے والے اجناس (گندم، کجھور، کشمش اور جو )اور اس کی مقدار متعین ہیں ، لہذا جس ملک میں بھی اس کی ادائیگی کی جائے ان اجناس میں سے کسی بھی جنس کے ذریعہ ادائیگی کی جا سکتی ہے، البتہ اگر کوئی شخص ان اجناس میں سے بعینہ کسی جنس کو بطور فدیہ دینے کی بجائے اس کی قیمت دینا چاہے تو یہ بھی شرعاً جائز درست ہے، البتہ قیمت کے ساتھ ادائیگی کرنے کی صورت میں فقہاء کرام نے ادا کرنے والے کی جگہ کی قیمت کو معتبر قرار دیا ہے، اس لئے صورت ِ مسئولہ میں مذکور مرحومہ خاتون کی بیٹی چونکہ پاکستان میں مقیم ہے اس لئے ادائیگی فدیہ میں یہاں کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔
کما فی ردالمحتار: تحت: ( قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية كما في الشرنبلالية وهو المذهب كما في البحر فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه الخ (مصرف الزکات، ج: 2، ص: 355، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار (ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلوۃ نصف صاع من بر) کالفطرۃ (وکذا حکم الوتر) والصوم، وایضایعطی (من ثلث مالہ) الخ۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ یعطی) أی یعطی عنہ ولیہ أي: من لہ ولایة التصرف في مالہ بوصایة أو وراثة، فیلزمہ ذلک من الثلث إن أوصی وإلا فلا یلزم الولي ذلک؛ لأنھا عبادة فلا بد من الاختیار، فإذا لم یوص فات الشرط فیسقط في حق أحکام الدنیاللتعذر (إلی قولہ) وأما إذا لم یوص فتطوع بھا الوارث فقد قال محمد في الزیادات: إنہ یجزیہ إن شاء اللہ تعالٰی، (باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72، ط: سعید)۔