احکام نماز

اگرمقتدی آخری رکعت میں شریک ہوجائے تو بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

فتوی نمبر :
84185
| تاریخ :
2025-07-14
عبادات / نماز / احکام نماز

اگرمقتدی آخری رکعت میں شریک ہوجائے تو بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

- اگر وتر نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیا کرنا چاہئے ؟
۲- اگر جاعت کی چوتھی رکعت میں شامل ہوں تو دوسرے سلام پر اٹھ کر بقایا ۳ رکعتیں کیسے ادا کریں . کیا پہلی اور دوسری رکعت الحمد شریف کے ساتھ اور تیسری صرف الحمد شریف کے ساتھ؟
یا کس ترتیب سے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور دوران رکوع یا اس کے بعد سلام سے پہلے یاد آئے ،تو ایسی صورت میں واپس نہ لوٹے، بلکہ سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کر لے ،اس سے اس کی نماز درست ادا ہو جائے گی ۔
جبکہ چار رکعت والی نماز میں اگر تین رکعتیں چھوٹ جائیں تو ان کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورۃ بھی ملا ئے،جبکہ تیسری رکعت میں صرف فاتحہ پڑھ کر رکعت مکمل کر کےآخر میں سلام پھیر دے ،البتہ پہلی رکعت کے بعد قعدہ میں بیٹھے ،کیونکہ یہ اس کی دوسری رکعت بن رہی ہے اور ہر دوسری رکعت پر قعدہ میں بیٹھنا واجب ہے،پھر اپنی دوسری رکعت پر نہ بیٹھے ،کیونکہ یہ اس کی تیسری رکعت بن رہی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار :(و) قراءة (قنوت الوتر) وهو مطلق الدعاء (قوله: وقراءة قنوت الوتر) أقحم لفظ (قراءة) إشارة إلى أن المراد بالقنوت الدعاء لا طول القيام كما قيل، وحكاهما في المجتبى، وسيجيء في محله. ابن عبد الرزاق: ثم وجوب القنوت مبني على قول الإمام: وأما عندهما فسنة،اھ(ج:1،ص:468)
و فیہ آیضاً: مسبوقاً أيضاً ولو عكس صح وأثم لترك الترتيب ( والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد ) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها، مفتاح السعادة ( فيما يقضيه ) أي بعد متابعته لإمامه فلو قبلها فالأظهر الفساد ويقضي أول صلاته في حق قراءة وآخرها في حق تشهد فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط ولايقعد قبلها.اھ(ج:1،ص:596)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84185کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات