کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ کیا مسجد میں اپنے لئے جگہ مختص کرنا اور کسی اور کو اس جگہ بیٹھنے سے منع کرنا شرع کی رُو سے کیسا ہے؟
کسی شخص کا مسجد میں اپنے لئے اس طور پر جگہ مختص کرنا کہ اگر کوئی اور شخص اس سے پہلے آ کر اس جگہ بیٹھ جائے، تو اس کو اس جگہ بیٹھنے نہ دیا جائے، شرعاً درست نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: ويحرم فيه السؤال، وتخصيص مكان لنفسه اھ (1/ 659)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتخصيص مكان لنفسه) لأنه يخل بالخشوع، كذا في القنية: أي لأنه إذا اعتاده ثم صلى في غيره يبقى باله مشغولا بالأول، بخلاف ما إذا لم يألف مكانا معينا (قوله وليس له إلخ) قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية اھ (1/ 662)۔