۱:سورہ فاتحہ میں "ولا الضالين" پڑھیں، (ولا الدالین) نہیں پڑھیں تو کیا نماز ہو جائے گی ؟
۲: اگر فجر سے پہلے احتلام ہو جائے، تو کیا وضو کر کے نماز ہو جائے گی ؟
۳: نماز میں فرض کی پہلی دور کعت جماعت کی نکل جائیں ،تو کیا تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت ملانی پڑے گی ؟
۴: چھوٹا غسل اور بڑے غسل میں کیا فرق ہے؟
۵: نماز کے الفاظ ( ع، ح ) اگر منہ سے صحیح ادائیگی نہ ہور ہی ہو تو کیا نماز صحیح ہو جائے گی ؟ اور الفاظ کیسے صحیح کریں؟
۶: غسل یا وضو میں بغیر کسی عذر کے تین بار کے بجائے ایک بار پانی ڈالا جائے تو کیا نماز ہو جائے گی ؟
۷:اگر کسی کو پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری ہو سردی کی وجہ سے یا کھانسی آنے یا کسی اور وجہ سے قطرے نکل جائے تو وضو رہتا ہے؟ اور اس وضو سے کیا قرآن شریف پڑھ سکتے ہیں ؟
۸: اسلامک بینک میں کام کرنا کیا جائز ہے ؟
۹: اسٹاک ایکسچینج میں کیا کام کر سکتے ہیں ؟ اور شیئرز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں ؟
۱۰: قضاء نمازیں اگر رہتی ہوں تو کیا سنتِ مؤکدہ کی جگہ پڑھ سکتے ہیں؟ یا فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھ سکتے ہیں ؟
۱۱: اگر عورت کو لیکوریا ہورہا ہو تو کیا وہ وضو کر کے نماز پڑھ سکتی ہے یا قرآن مجید پڑھ سکتی ہے ؟
۱: "ولا الضالین" کی ادائیگی میں ضاد کو اس کے صحیح مخرج (یعنی زبان کی دائیں یا بائیں جانب کو اسی طرف کی اوپری داڑھوں میں سے لگا کر ادا کرنا ہی اصل اور درست طریقہ ہے، لہذا جب ”ض " کو اس کے اصل مخرج سے ادا کیا جائے ،تو اس سے نماز خراب ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
۲: چار رکعتوں والی جماعت کی نماز میں اگر کسی شخص کی دور کعتیں رہ جائیں، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد ان دور کعتوں کی قضا میں سورتِ فاتحہ کے بعد سورت ملانا ضروری ہے۔
۳:احتلام ہو جانے کی صورت میں فقط وضو کر کے نماز پڑھنا جائز نہیں، بلکہ نماز سے قبل غسل کر نالازم ہو گا۔
۴: اور چھوٹے غسل اور بڑے غسل کے عنوان سے یہ تقسیم کتابوں میں ہماری نظر سے نہیں گزری۔
۵: اگر کوئی شخص باوجود کوشش کے حروف کو تجوید کے ساتھ ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اگرچہ اس کی نماز بغیر تجوید کے قرآن پڑھنے کے بھی درست ہو جاتی ہے۔ لیکن کسی ماہر قاری کی نگرانی میں ادائیگئ الفاظ کی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا ضروری ہے۔
۶:غسل یا وضو میں دھوئے جانے والے اعضاء کو غسل یا وضو دونوں میں تین بار دھونا سنت ہے، اور ایک بار دھونا بھی کافی ہے اور اس کے بعد نماز بھی درست ہوگی ، مگر بلا عذر اس سنت کا ترک کرنا مناسب نہیں۔
۷: اگر مذکور شخص شرعاً معذور ہو تو اس کو نماز اور تلاوت و غیرو کے لئے بار بار وضو کرنا لازم اور ضروری نہیں، بلکہ ہر فرض نماز کے وقت اس عذر کی وجہ سے نیا وضو کرنا لازم ہو گا، پھر اس کے بعد اس عذر کی وجہ سے اس نماز کے وقت کے دوران دو بار ہ وضو کر ناضر وری نہ ہو گا، اور جب تک عذر کی حالت باقی رہے نماز کے دوران قطرہ نکل کر کپڑوں کو لگ جانے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ معذور کی تعریف یہ ہے کہ جس شخص کو عذر اس قدر لاحق ہو کہ فرض نماز کا پورا وقت گزر جانے کے باوجود اس کی ادائیگی طہارت کے ساتھ ممکن نہ ہو، تو ایسے شخص کے لئے شرعاً معذور کے احکام جاری ہوں گے، لیکن اگر کوئی شخص شرعا معذور نہ ہو تو قطرے آنے کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد وضو کیے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں، البتہ ہاتھ لگائے بغیر زبانی تلاوت کر سکتا ہے۔
۸: اگر اسلامی بینک شرعی اصولوں کے مطابق مستند مفتیانِ کرام کی نگرانی میں کام کر رہا ہو تو اس میں ملازمت کرنا جائز ہے۔
۹: سائل نے اسٹاک ایکسچینج میں کام کی نوعیت نہیں لکھی، اگر اس کا مقصد وہاں کاروباری سرگرمیوں میں کام کرنا اور شئیر ز کی خرید و فروخت کرنا ہو تو اس میں درجِ ذیل شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے :
• جس کمپنی یا ادارہ کے شئیر زخریدیں اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
• فیس ویلیو سے کم و بیش قیمت پر خرید و فروخت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کمپنی کے اثاثے صرف نقد شکل میں نہ ہوں۔
•نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا ہو۔
•نفع ونقصان دونوں میں شراکت ہو۔
•اگر کمپنی سود کا لین دین کرتی ہو تو اس کے خلاف سالانہ اجلاس میں آواز اٹھائے۔
•کمپنی کی آمدنی میں اگر تھوڑی بہت رقم سود کی شامل ہو تو اس کے بقدر نفع سے الگ کر کے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دے۔
۱۰: سنتِ مؤکدہ کی جگہ قضا نمازیں ادا کر نادرست نہیں، البتہ نوافل کے بجائے قضاء نمازوں کو پڑھ لینا چاہیئے۔
۱۱:لیکوریا میں مبتلا عورت کا حکم وہی ہے جو جواب نمبر (7) میں قطروں کے مریض کا گزرا ہے۔
کما في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح؛ من أحكم أحكام السنة أن تركها ولو عمدا لا يفسد الصلاة ولا يوجب سجود السهو غير أنه يكون مسيئا إذا تركها عمدا, والإساءة أخف من الكراهة, ويثاب على فعلها ويلام على تركها. (ص: 96)۔
و في الفتاوى الهندية: ومنها أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد اھ (1/ 91)۔
كما في شرح المقدمة الجزرية: والضاد: من حافته إذ وليا، الاضراس من أيسر أو يمناها اھ (ص: 22)۔
و فیھا ایضاً : ومن لا يحسن بعض الحروف ينبغي أن يجهد ولا يعذر في ذلك فإن كان لا ينطق لسانه في بعض الحروف إن لم يجد آية ليس فيها تلك الحروف تجوز صلاته ولا يؤم غيره اھ (1/ 79)۔