احکام نماز

قضاء شدہ نمازیں اگر زیادہ مقدار میں ہو تو بیٹھ کر ادا کی جا سکتی ہیں؟

فتوی نمبر :
85097
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

قضاء شدہ نمازیں اگر زیادہ مقدار میں ہو تو بیٹھ کر ادا کی جا سکتی ہیں؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ
(1): میری عمر کی بہت سی نماز یں قضا ہیں ، اب الحمدللہ ،میں اللہ کی تو فيق سے پڑھ رہا ہوں ، لیکن نماز یں بہت ہیں ،اور میرے پاس وقت بہت کم ہے، یعنی بوڑھا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ایک دن میں بہت سی نماز یں پڑھوں ، لیکن ایک دن کی نمازیں پڑھ کر تھک جاتا ہوں، بار بار اٹھنے کی وجہ سے ، کیا میں بیٹھ کر بہت سی نمازیں پڑھ سکتا ہوں ؟ اور چار رکعتوں میں آخری دو میں فاتحہ چھوڑی جاسکتی ہے ؟ اور فاتحہ نہ پڑھیں تو کتنی دیر قیام ضروری ہے ؟
(2):وتر کی قضا ضروری ہے ؟
(3): اسی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی قضا ہوئے ہیں، کیا ہر روزے کے بدلے کفارہ ضروری ہے یا صرف ایک کفارہ اور باقی صرف قضاء ؟ براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں درج بالا سوالات کے جوابات عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1): قضا شد ہ فرض اور وتر نمازیں لوٹانا لازم ہے، مگر محض معمولی تھکاوٹ کی وجہ سے بیٹھ کر فرض نماز پڑ ھناشر عاً جائز نہیں،اور نہ ہی اس طرح نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو گی، البتہ بڑھاپے کی وجہ سے اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے سائل کو نا قابل برداشت تکلیف ہوتی ہو، یا کوئی بیماری و غیر ہ لاحق ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں سائل بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، تاہم اگر ایک وقت میں بہت ساری قضا نمازیں ،دوہرانا سائل کے لیے مشکل ہو تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے ساتھ اس وقت کی قضا نماز دہر اتار ہے، اور اس کے علاوہ بھی جو فارغ وقت میسر ہو ، اس میں نفل نماز پڑھنے اور ذکر واذکار وغیرہ کے بجائے قضا نمازیں ادا کر تار ہے، چنانچہ اگر اس طرح زندگی میں ساری قضا نمازیں لوٹادی گئیں تو بہتر ہے ، ور نہ بقیہ نمازوں کے متعلق وصیت کر نا سائل پر لازم ہے، جبکہ صرف فرض نماز کی آخری دور کعتوں میں اگر سورہ فاتحہ پڑھنے کے بجائے تین وقعہ سبحان ربی الا علی کے بقدر کھڑار ہے تو اس سے بھی نماز ادا ہو جاتی ہے۔
(2):جی ہاں ! و تر فرض عملی ہے ، اس کی بھی قضا لازم ہے۔
(3) :رمضان المبارک کے جتنے روزے رہ گئے ہیں ، ان کی صرف قضا لازم ہے ، کفارہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد هكذا في الهداية وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى كذا في معراج الدراية وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس كذا في التبيين أو يجد وجعا لذلك فإن لحقه نوع مشقة لم يجز ترك ذلك القيام كذا في الكافي اھ (1/ 136)۔
وفيه أیضاً: و في الحجة الاشتغال بالفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المعروفة اھ (1/ 125)۔
وفيه أیضاً: وإن ترك القراءة والتسبيح لم يكن عليه حرج ولا سجدتا السهو إن كان ساهيا لكن القراءة أفضل هذا هو الصحيح من الروايات هكذا في الذخيرة وعليه الاعتماد كذا في فتاوى قاضي خان وهو الأصح كذا في المحيط في فصل القراءة وهو الصحيح وظاهر الرواية هكذا في البدائع والسكوت مكروه هكذا في الخلاصة اھ (1/ 76)۔
وفيه أیضاً: ويجب القضاء بتركه ناسيا أو عامدا وإن طالت المدة ولا يجوز بدون نية الوتر كذا في الكفاية ومتى قضي الوتر قضي بالقنوت كذا في المحيط اھ (1/ 111)۔
و في بدائع الصنائع؛ و في الآية دلالة وجوب القضاء على من أفطر بغير عذر لأنه لما وجب القضاء على المريض والمسافر مع أنهما أفطرا بسبب العذر المبيح للإفطار فلأن يجب على غير ذي العذر أولى اھ (2/ 94) والله تعالى اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85097کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات